کوھاٹ کی سیاست ٹکٹوں کی تقسیم پر مشکلات کاشکار

کوھاٹ کی سیاست ٹکٹوں کی تقسیم پر مشکلات کاشکار


الیکشن 2018 کا شیڈول سامنے آتے ہی سیاسی حلقوں میں ہلچل بڑھ گئی اور سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے لئے متحرک ہوگئیں۔ امیدوار سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے لگے اور ناراض ورکرز اپنی جماعت چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں اپنی جگہ بنانے لگے۔ پرانے ورکرز کو نظر انداز کرکے نئے شامل ہونے والوں کو ترجیح سے کارکنان میں مایوسی بڑھنے پر سیاسی جماعتیں بھی مشکلات کا شکار ہونے لگیں اور کارکنان کے نظریاتی گروپ تشکیل دیئے جانے لگے۔ بنی گالہ میں پی ٹی آئی کارکنان کاکئی روز سے جاری احتجاج بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ضلع کوھاٹ میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی ہے جس کاسامنا دیگر شہروں کو ہے گوکہ انتخابات کے انعقاد میں صرف ایک ماہ رہ گیا ہے مگر سیاسی ہلچل میں وہ تیزی اور گرمی دیکھنے میں نہیں آرہی جو گذشتہ انتخابات کا خاصہ ہوتی تھی۔شاید اسکی وجہ دیگر جماعتوں کی بااثر شخصیات کی آمد پران کی آؤ بھگت ہویا ٹکٹوں کی تقسیم کے جاں جھوکوں کام میں مشکلات کاحائل ہونا ہو۔جس نے سیاسی جماعتوں کو امتحان میں ڈال رکھا ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف سرفہرست ہے اور اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ دیگر سیاسی پارٹیاں امیدوار تلاش کررہی ہیں اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ کوھاٹ میں الیکشن 2013 ء میں ایم این اے اور ایم پی ایز پی ٹی آئی سے منتخب ہو کر آئے تھے اسلئے قائدین کی اب بھی خواہش ہے کہ وہ کوھاٹ پر یہ قبضہ برقرار رکھ سکے پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے امیدواروں سے جب درخواستیں طلب کیں تو سابق ایم این اے شہریار آفریدی‘سابق ایم پی اے ضیاء اللہ بنگش‘ سابق صوبائی وزیر قانون امیتاز شاہد قریشی سمیت پی ٹی ائی ضلعی صدر آفتاب عالم ایڈووکیٹ‘ جنوبی اضلاع ریجن کے جنرل سیکرٹری ملک اقبال‘ سینئر نائب صدر ساؤتھ ریجن فاروق زمان شنواری‘شہباز گل شنواری‘سابق گورنر افتخار حسین شاہ اور درجنوں دیگر نے ٹکٹوں کے لئے اپلائی کیا مرکزی قیادت کی نظر انتخاب شہریار آفریدی ‘ضیاء اللہ بنگش‘امتیازشاہد قریشی اور سیاست کو نوآموز فردولید ظفر عظمت علی خان پرپڑی تو کارکنان میں سید افتخار حسین شاہ اور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کو نظر انداز کرنے پرشدید اشتعال پیدا ہوا کہ کہاں ولید ظفر کاانتخاب اورکہاں آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی سیاسی خدمات۔نتیجتاً کارکنان نے اس فیصلے کے خلاف اپنا نظریاتی گروپ تشکیل دیدیا اور ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر کا مقابلہ بھی پی ٹی آئی کے نظر انداز امیدوار سے پڑ گیا اورکوھاٹ کے قومی اسمبلی کے ایک اور تین صوبائی نشستوں پر ایک ہی جماعت کے کارکنان مدمقابل ہوگئے اور بعض اس پر احتجاج کرنے بنی گالہ پہنچ گئے مگر کشمکش کی یہ سیاسی فضا تاحال برقرار ہے اور سیاسی سرگرمیاں جو تقریبا جمود کاشکار ہیں مگر ایک بات طے ہے کہ کوھاٹ کے قومی اسمبلی کے 1993ء کے بعد یہ تاریخ رہی ہے کہ یہاں کے عوام نے کبھی بھی ایک بار ممبر قومی اسمبلی رہنے والے کو دوسری بار موقعہ نہیں دیا یہ الگ بات ہے کہ 1993ء سے پہلے اسی ضلع کے عوام شیخ الحدیث مولانانعمت اللہ کو تین مرتبہ منتخب کراچکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کوھاٹ کے اکثر کارکنان حلقہ پی کے 80 میں ضلعی صدر آفتاب عالم ایڈووکیٹ کونظر انداز کرکے نووارد شخصیت ولید ظفر عظمت علی خان کو ٹکٹ دینے پر سخت ناراضگی کا اظہارکررہے ہیں۔اور اسی طرح بعض ورکرز سابق صوبائی وزیر امتیاز شاہد قریشی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کاووٹ بنک تنزلی کاشکار ہے ان کے اپنے ہی خاندان نے کھلم کھلا مخالفت کردی ہے اور حلقے کے عوام بھی ان کی پانچ سالہ کارکردگی سے نالاں ہیں لہٰذا ان کے بجائے اگر داؤد آفریدی کو آگے کیاجائے تو وہ جیت کی پوزیشن میں آسکتے ہیں مگر قائدین نے ورکرز کے ان تحفظات کو درخود اعتنا نہ سمجھا۔علاوہ ازیں بعض پی ٹی آئی حلقے سابق گورنر سید افتخار حسین شاہ کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں جن کا ضلع بھر میں تشخص بہتر ہے مگر انہیں بھی قیادت نے نظرانداز کردیا جس پر ضلعی قائدین اپنا نظریاتی گروپ تشکیل دینے پرمجبور ہوئے اور تمام نظریاتی گروپ نے ان نظر انداز امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا عزم کرلیاجس سے پی ٹی آئی واضح طورپر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے مگر مرکزی قائدین کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔دلچسپ امریہ بھی ہے کہ سابق صوبائی وزیر سید قلب حسن پی پی پی چھوڑ کر پی ٹی آئی کی صفوں میں اس شرط پر جاگھسے کہ انہیں صوبائی ٹکٹ دیاجائے مگر پی ٹی آئی نے اسے مسترد کرکے بہتر کام کیا۔ کوھاٹ کے پی ٹی آئی ورکرز کو اچھی طرح یاد ہے کہ غلام بانڈہ میں پی ٹی آئی کے ضلعی سیکرٹریٹ کے افتتاح کے موقعہ پر علی امین گنڈا پور‘سید افتخار حسین‘شہریار آفریدی‘ضیاء اللہ بنگش‘نسیم آفریدی اورکئی دیگر نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوھاٹ کے پی ٹی آئی ورکرز ایک ہیں اوران میں کوئی اختلاف نہیں مگر اسی تقریب سے خطاب کے دوران شہباز گل شنواری نے حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے مقررین کے تمام دعوؤں کی نفی کی ان کا کہنا تھا کہ ورکرز کی عزت نفس سخت مجروح ہے اختلافات برقرار ہیں مگر اظہار نہیں کرتے جس کی وجہ کسی ایم پی اے‘ضلعی صدر یا ضلعی قائد نے انہیں ایک جگہ نہیں بٹھایا ان کے مسائل کوحل نہیں کیا ان کے مفادات اور ترجیحات کو عملی جامہ نہیں پہنایا ان کے دلوں میں لاواپک رہاہے اندر جھانک کراس لاوے کو باہر نکالا جائے مگر قائدین نے پھر بھی ان تجاویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا شہباز گل شنواری نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی اور تاج شادی ہال گول میز ورکرز کنونشن منعقد کروا کر ورکرز اور قائدین کو سامنے لابٹھایا بعض قائدین نے اس کنونشن میں بھی شرکت نہیں کی تاہم موجودہ کارکنان کے اندر پکنے والا لاوا جب باہر نکلا تو کنونشن میدان جنگ کی صورت اختیار کرگیا اورکارکنان قائدین سے باہم دست وگریبان ہوگئے علاوہ ازیں ہرذی شعور کو علم ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدواران سے درخواست کے ہمراہ ایک حلف نامہ بھی طلب کیاگیا تھا جس میں اس امر کا حلفیہ اقرار تھا اگر قائدین نے ٹکٹ نہ دیا تو پی ٹی آئی امیدوار کاآزاد حیثیت سے الیکشن لڑکر مقابلہ نہیں کروں گا اب حیرانی اس بات پر ہے کہ حلف نامہ جمع کروانے والے آزاد حیثیت سے کیسے مقابلے پر اتر آئے ہیں جس کاواضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ پارٹی میں عہدوں اور مفادات پر پہلے بھی اختلافات تھے اور اب بھی ہیں مرکزی قائدین کو اس حوالے سے سخت حکمت عملی سے کام لینا ہوگا اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو دیگر پارٹیوں کی جیت یقینی ہوگی اسی طرح صورتحال کا سامنا کوھاٹ میں ایم ایم اے کو بھی ہے جس نے قومی اسمبلی کے لئے گوہر سیف اللہ خان‘حلقہ پی کے 80 کے لئے شوکت حبیب‘پی کے 81 کے لئے میجر ریٹائرڈ شاہ داد خان اور پی کے 82 کے لئے سید قلب حسن کو اپنے امیدوار کے طورپر میدان میں اتارا بعض حلقوں نے سید قلب حسن پر تحفظات کا اظہار کیا کہ انہوں نے پہلے پی ٹی آئی سے رجوع کیا جب وہاں دال نہ گلی تو ایم ایم اے کا دامن پکڑ لیا اور پارٹی میں شامل ہوتے ہی انہیں ٹکٹ بھی دیدیا گیا جس سے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کی حوصلہ شکنی ہوئی اور انہوں نے جمعیت کے نظریاتی امیدواروں کو آزاد حیثیت سے میدان میں اتار لیا جن میں سابق ام این اے مفتی ابرار سلطان بھی شامل ہیں اوراسکے ساتھ ساتھ حلقہ پی کے 81 سے جماعت اسلامی کے مقبول رہنما سابق ایم پی اے ڈاکٹر اقبال فنا کو نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیاگیا جن کا حق تھا کہ ایم ایم اے میں جماعت اسلامی کی موجودگی کے سبب نئے امیدوار کے بجائے اس مضبوط امیدوار کو ٹکٹ دیاجاتا جو نہیں دیا گیا اور اب وہ آزاد حیثیت سے ایم ایم اے کے امیدوار کا مقابلہ کریں گے پاکستان پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کاٹکٹ پیردلاور شاہ کے حوالے کیا جنہوں نے اپنے بھائی پیر عادل شاہ کو تحریک انصاف سے نکال کر اس امید پر پی پی پی میں شامل کرایا کہ انہیں صوبائی حلقہ پی کے 82 کا پی پی پی کاٹکٹ دلایاجاسکے مگر مرکزی قیادت نے پیر عادل شاہ کے بجائے ٹکٹ محمودالاسلام ایڈووکیٹ کو دیدیا جو قومی وطن پارٹی سے مستعفی ہوکر حال ہی میں پی پی پی میں شامل ہوئے پیر دلاور شاہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا ٹکٹ پی پی پی قیادت کو واپس کردیا اور پاکستان پیپلزپارٹی سے مستعفی ہوکر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا تاہم انہوں نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے بلکہ الیکشن سے دستبردار ہونے کافیصلہ کرلیا۔تاہم اس موقعہ پر پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ ہولڈر محموداسلام ایڈووکیٹ نے الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔جس کے بعد صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے 82 کا ٹکٹ پیر عادل شاہ کے حوالے کردیاگیا۔شاید انہی تحفظات اور شمولیتی تقریبات سے سیاسی سرگرمیوں پر خاموشی کی چادر پڑ چکی ہے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں بے یقینی کی یہ صورتحال بدل جائیگی اور موسم کی گرمی کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوگا اور امیدوار اپنی کامیابی کے لئے بلند وبانگ دعوؤں کا حسب سابق آغاز کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں