کپتان کا نیا پاکستان

کپتان کا نیا پاکستان


ریاست مدینہ کے بعد پاکستان واحد مملکت ہے جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی ہے۔ دو قومی نظریہ ہی قیام پاکستان کا موجب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسی دن معرض وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔بلا شبہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے جس کے آئین کے ابتدائیہ میں پہلی دستور ساز اسمبلی سے منظور ہونے والی قرار داد جسے قرار داد مقاصد کہا جاتا ہے شامل ہے جس کے تحت کوئی بھی قانون اسلامی احکامات کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔

ہماری بد قسمتی رہی ہے کہ ہم نے اسلام کے نام پر ملک بنانے کے باوجود اس میں اسلامی جمہوری نظام رائج کرنے کی بجائے مغربی جمہوری نظام نافذ کیا اور مختلف ادوار میں مختلف تجربات کئے گئے جس میں پارلیمانی، صدارتی نظام حکومت شامل ہیں۔ ہر شخص نے اپنے مفاد کی خاطرریاستی نظام کو چلانے کی کوشش کی۔ دراصل پاکستان کسی دنیاوی نظام کا محتاج ہی نہیں، اسلام ایک مکمل نظام زندگی مہیا کرتا ہے اور قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 15 جولائی 1948 کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر فرمایا ”اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظریہ اور نظام اختیار کیا تو عوام کی پرسکون خوشحالی حاصل کرنے کے اپنے نصب العین میں ہمیں کوئی مدد نہ ملے گی، ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو“۔

قائد اعظم ؒ نے مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ لاہور میں 23 مارچ 1940 کو دو قومی نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا”اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں ہیں بلکہ درحقیقت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں چنانچہ اس خواہش کو خواب و خیال ہی کہنا چاہئے کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک مشترکہ قومیت تخلیق کر سکیں گے یہ لوگ آپس میں شادی بیاہ نہیں کرتے نہ ایک دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں، میں واشگاف لفظوں میں کہتا ہوں کہ وہ دو مختلف تہذیبوں سے واسطہ رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں بلکہ اکثر متصادم رہتے ہیں، انسانی زندگی کے متعلق ہندوؤں اور مسلمانوں کے خیالات اور تصورات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمان اپنی اپنی ترقی کی تمناؤں کیلئے مختلف تاریخوں سے نسبت رکھتے ہیں، انکے تاریخی وسائل اور ماخذ مختلف ہیں، انکی رزمیہ نظمیں، ان کے سربرآوردہ بزرگ اور قابل فخر تاریخی کارنامے سب مختلف اور الگ الگ ہیں۔ اکثر اوقات ایک قوم کا زعیم اور راہنماء دوسری قوم کی بزرگ اور برتر ہستیوں کا دشمن ثابت ہوتا ہے، ایک قوم کی فتح دوسری قوم کی شکست ہوتی ہے، ایسی دوقوموں کو ایک ریاست اور ایک حکومت کی ایک مشترکہ گاڑی کے دو بیل بنانے اور ان کو باہمی تعاون کے ساتھ قدم بڑھانے پر آمادہ کرنے کا نتیجہ انجام کار تباہی کا باعث ہوگا، خاص کر اس صورت میں کہ ان میں سے ایک قوم تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں ہو اور دوسری کو اکثریت حاصل ہو“۔

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ میٹرک کے بعد سے انگلستان میں پلے بڑے اور تعلیم حاصل کی لیکن ہندوستان کی عملی سیاست میں داخل ہونے کے بعد انکے خیالات اسلام، مسلمانوں اور اسلامی ریاست سے متعلق بالکل واضح اور پختہ ہوتے چلے گئے۔ قائد اعظم شروع میں کانگریس کے رکن رہے اور بعد ازاں کانگریس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی رکنیت بھی اختیار کی اور انھیں ہندو مسلم اتحاد کا سفیر اور حامی کہا جاتا تھا لیکن ہندو ؤں کی ذہنیت دیکھنے کے بعد انہوں نے دو قومی نظریہ اختیار کیا اور علیحدہ مملکت کی جدوجہد شروع کی۔

25 جولائی کے عام انتخابات میں عمران خان کی جماعت قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ فتح کے بعد عمران خان نے پہلی پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کا جو خاکہ پیش کیا ہے اس میں مدینہ کی ریاست کا حوالہ دیا ہے جوکہ پاکستانی عوام کیلئے خوش آئند بات ہے جس پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ سے تا حیات نا اہل اور احتساب عدالت سے سزا یافتہ میاں محمد نواز شریف جو تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے اور دو بار بھاری مینڈیٹ جو کہ دو تہائی تک حاصل رہااور وہ بظاہر مذہبی خاندان سے تعلق اور ہر رمضان المبارک میں روضہ رسول ﷺ پر حاضری کی سعادت بھی حاصل کرتے لیکن انہوں نے اپنے تینوں ادوار میں اسلامی نظام کے نفاذ کی کوششوں کی بجائے مغربی طرز سیاست اور منافقیت کو ہی رواج دیا۔ وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے سود کو غیر اسلامی قرار دیئے جانے اور اسے ختم کئے جانے کے حکم کو میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کرکے حکم امتناعی حاصل کیا گیا جو کہ تاحال جاری ہے اور سودی نظام ہماری معیشت کو نچوڑ رہا ہے۔

میاں محمد نوازشریف کا دعویٰ رہا ہے کہ ان کی جماعت مسلم لیگ قائد اعظم کی مسلم لیگ ہے اور مذہبی ووٹ بھی بلاشبہ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں انھیں ہی ملتا رہا۔دو بار انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد قائم کرکے الیکشن میں حصہ لیا لیکن گزشتہ چند سالوں میں خصوصاً جلا وطنی گزارنے کے بعد ان کے نظریات میں کافی زیادہ تبدیلی آئی۔ دو قومی نظریہ سے انہوں نے کھلم کھلا انحراف کرنا شروع کردیا۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوؤں سے ہمارا کوئی زیادہ اختلاف نہیں، انکا اور ہمارا دھرم ایک ہی ہے، وہ اللہ کو بھگوان کہتے ہیں اور یہ جو سرحد دونوں ملکوں کے درمیان ہے یہ بھی بے معنی اور لکیر کی مانند ہے اور ان نظریات کا بطور وزیر اعظم انہوں نے بغیر ویزا کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی او ران کے وفد کو لاہور ایئر پورٹ سے اپنے محل جاتی عمرہ لے جاکر عملی مظاہرہ بھی کردیا کیونکہ بغیر ویزہ کے کوئی اپنے علاقہ میں ہی جا سکتا ہے، کسی آزاد ا ور خود مختار ملک میں جانا کسی طور ممکن نہیں۔

عمران خان کاانتخاب جیتنے کے بعد خطاب بہت حوصلہ افزاء تھا جو انکے مزاج اور روایتی سٹائل سے ہٹ کر ہے۔ اس میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات اور ہمسایہ ممالک سے خوشگوار دو طرفہ تعلقات، حکومتی عہدیداران کا سادہ طرز زندگی، وزیر اعظم ہاؤس اور صوبوں کے گورنر ہاؤس یونیورسٹیاں بنانے یا عوامی مفاد کیلئے استعمال کرنے اور احتساب کا مضبوط نظام جس سے ان سمیت کوئی حکومتی عہدیدار بھی نہ بچ سکے گا اور عوام کے دیئے گئے ٹیکس کا محافظ ہونے کا یقین دلا یا ہے۔ بلاشبہ ریاست مدینہ کا نظام ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنانے کیلئے آئیڈیل نظام ہے۔ریاست مدینہ میں سربراہ ریاست حضرت محمد مصطفی ﷺ نے مساوات کا ایسا نظام قائم کیا تھا جس کی مثال کسی بھی مغربی اور جمہوریت کی چیمپئن ریاست سے ملنا ممکن ہی نہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے غزوہ خندق کے موقع پر صحابہ اکرام ؓ کے ساتھ مل کر خندق کھودی اور بھوک پیاس میں جب صحابہ ؓ نے پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھ کر کام کیا تو حضور اکرم ﷺ نے پیٹ پر دو پتھر باندھ رکھے تھے۔ خلافت راشدہ میں احتساب کا نظام اس قدر مضبوط تھا کہ ایک عام شخص خطبہ جمعہ کے موقع پر خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق ؓ سے مجمع میں یہ سوال پوچھتا ہے کہ مال غنیمت کی چادر سے جب ایک پست قد کے شخص کا کرتا نہیں بنا تو آپ نے کرتا کیسے بنالیا جس پر خلیفہ اپنے بیٹے کو جواب دینے کا حکم دیتے ہیں جو بتاتا ہے کہ اس نے اپنے حصہ کی چادر بھی انھیں دے دی ہے جس سے کرتا بنایا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے پاس جب ایک عورت کا چوری کا مقدمہ پیش ہوتا ہے اور ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جاتی ہے تو کئی قبیلوں کے سردار التجا ء کرتے ہیں کہ اس کی سزا معاف کردی جائے تو حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر اسکی جگہ حضرت فاطمہ ؓ بھی ہوتیں تو اسے بھی معافی نہ ملتی۔

جناب عمران خان صاحب پاکستانی عوام آپکے جذبہ اور انتھک محنت لگن کی قدر دان ہے، آپ 22 سال کی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں اور نیا پاکستان بنانے کا نعرہ بلند کیا ہے۔ عوام کو پورا یقین ہے کہ آپ اس کیلئے تگ و دو کریں گے، آپ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے ہیں اور ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز بھی آپ نے حاصل کررکھا ہے آپ بہتر جانتے ہیں کہ صرف کپتان سے میچ جیتنا نا ممکن نہ بھی ہو تو مشکل ضرور ہوتا ہے، میچ جیتنے کیلئے باقی ٹیم کا بھی اہل ہونا بہت ضروری ہے۔ نئے پاکستان کیلئے جن جماعتوں کو آپ کرپٹ قرار دیتے ہیں کے تربیت یافتہ افراد جو پرانے پاکستان کو اس حال میں پہنچانے کے ذمہ دار ہیں کیا اس ٹیم کے ساتھ اسمبلی میں اتنی معمولی اکثریت کے ساتھ آپ اپنے ویژن کے مطابق مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ کیونکہ یہ آپ کیلئے آخری موقع ہے، اگر آپ اپنے دعوؤں کے مطابق ڈلیور نہ کر سکے تو عوام کا اعتبار اٹھ جائے گا اسلئے آپ سے گزارش ہے کہ کسی بھی مصلحت کا شکار ہونے کی بجائے اپنے ویژن کے مطابق تمام مسائل اور انکے حل کیلئے اپنی تدابیر عوام سے شیئر کرکے عوام کو اعتماد میں لے کر نظام حکومت چلائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں