14 اگست 1947 سے 14 اگست 2018 ۔ کیا ہم آزاد ہیں؟

14 اگست 1947 سے 14 اگست 2018 ۔ کیا ہم آزاد ہیں؟


زندہ قومیں اپنا جشن آزادی بڑی دھوم دھام سے مناتی ہیں بلا شبہ ہم بھی زندہ قوم ہیں اور ہر سال 14 اگست کو یوم آزادی بھرپور طریقے سے مناتے ہیں ہمیں یہ جشن مناتے ہوئے گزشتہ سالوں کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعات کو بھی یاد رکھنا چاہیے بلکہ خود احتسابی سے ان کی وجوہات جاننے کی کوشش بھی کرناچاہیے ہر سال جشن آزادی کے موقع پر 1971ء کے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سانحہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بار بار جمہوریت کی ناکامی اورمعیشت کی زبوں حالی کی وجوہات پر بھی غور کر کے ان کو دور کرنے اور جس حد تک ہو سکے ان کا کفارہ ادا کرنے کا بھی عہد کرنا چاہیے۔ پاکستان دنیائے عالم میں واحد مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی انسان کو زندہ رہنے کیلئے خوراک‘ لباس‘ ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اگر زندہ رہنا ہی مقصد ہو تو ان ضروریات کا حصول کچھ زیادہ مشکل نہیں لیکن ایسی زندگی کو کسی حیوان کی زندگی سے بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ضروریات زندگی تو کشمیریوں کو بھارتی تسلط میں بہت بہتر بلکہ آزادی کی نسبت کئی گنا بہتر میسر آ سکتی ہیں لیکن انہوں نے آزادی کے حصول کیلئے لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کر کے شمع آزاد ی کوروشن کر رکھا ہے۔

آزادی دراصل نظریہ مذہب خیالات‘ مساوات عدل و انصاف اور حقوق کا نام ہے۔ تحریک پاکستان کے دوان مسلمان قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی جو مسلمانوں نے بے شمار قربانیوں اور جدوجہد سے 1947ء میں حاصل کر لیا جبکہ آج ایک ملک (پاکستان) کو ایک قوم کی ضرورت ہے یہ الفاظ چندبرس قبل پاکستان کے موضوع پر مقالہ لکھنے کیلئے برطانیہ سے پاکستان آنے والی طالبہ کے ہیں جس نے ان الفاظ پر اپنے مقالہ کا اختتام کیا ہے۔ پاکستانی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد کسی بھی طور پر ان ریمارکس سے انکار ممکن نہیں۔ بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ہم مسلسل زوال کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں قیام پاکستان کے وقت پیپر پن کی بجائے کیکر کے کانٹوں سے کام چلانے والی قوم ایٹمی طاقت بن جانے کے باوجود بھی صحیح معنوں میں ایک قوم بننے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہمارے ساتھ اور ہم سے بعد آزادی حاصل کرنیوالے ممالک مضبوط اقتصادی سیاسی سماجی نظام قائم کر کے دنیامیں مقا م پیدا کر چکے ہیں لیکن ہم نت نئے تجربات کرنے کے باوجود بدقسمتی سے ابھی تک اپنی منزل کا تعین ہی نہیں کر سکے سیاستدان فوج کو‘ فوج سیاستدانوں کو اور عوام دونوں کوعدم استحکام اور ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جبکہ تمام مسائل کے اصل قصہ وار ہم عوام ہیں۔

بلی چوہے کا کھیل مسلسل جاری ہے نیا آنے والا حکمران وہ فوجی ہو یا عوامی قوم ملک اور آئین سے کوئی نیا مذاق کر جاتا ہے اور عوام گورکن کی مثال کی طرح پہلے والوں کو اچھاسمجھنا شروع کر دیتے ہیں حد تو یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ ملک کھونے والے بھی شرمندگی اور ندامت کی بجائے ”خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا“ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہم آج تک ملک کیلئے صدارتی یا پارلیمانی طرز حکومت میں مستقل چوائس ہی نہیں کر سکے قیام پاکستان کے وقت جب قائد اعظم گورنر جنرل کے عہدہ پر فائز ہوئے اختیارات کا مبغ تھا بعد میں 1956ء کا آئین پارلیمانی نوعیت کا بنایا گیا جس کے تحت اعلان شدہ انتخابات منعقد ہی نہ ہو سکے اور ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہو گیا جو اس وقت کے صدر سکندر مرزا جس نے پہلے ہی آرمی چیف ایوب خان کو اپنی کابینہ میں بطور وزیر دفاع شامل کررکھا تھا نے خود ایوب خان کو مارشل لاء نافذ کرنے کی دعوت دی جس نے چند یوم بعد ہی سکندر مرزا کوبھی حکومت سے نکال باہر کیا اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے 1962 کا صدارتی آئین نافذ کر دیا جس کا صرف اور صرف مقصد تاحیات صدر پاکستان رہنے کی خواہش تھی اس آئین کے تحت بنیادی جمہورتوں کا نظام متعارف کروایا گیا جس کے تحت 80 ہزار بی ڈی ممبرز کا انتخاب کروا کر ضلعی انتظامیہ کے ذریعے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر ایوب خان ملک کا صدر ”منتخب“ ہو گیا ایوبی دور میں مشرقی پاکستان کے عوام کو مغربی بازو کی برتری کاشدید احساس ہوا جب ون یونٹ قائم کر کے مشرقی پاکستان کی اکثریت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ایوبی کابینہ کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند پر ”اختلافات“ کو بنیاد بنا کر اپنے محسن ایوب خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا اس آمریت کے خاتمہ سے ایک اور مارشل لاء آ گیا اور جنرل یحییٰ خان ملک کے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے جس نے 1970ء کے لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت ون یونٹ توڑ کر ”ون مین ون ووٹ“ کی بنیاد پر عام انتخابات منعقد کروائے جو بلا شبہ ملک کے پہلے غیر جانبدارانہ انتخابات تھے جس کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن شیخ کی عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر لی چونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی اس نسبت سے مجیب الرحمن کی اسمبلی میں بھی اکثریت تھی جب بھٹو کو اقتدار ہاتھ سے جاتا ہوا نظر آیا تو اس نے اس مفہوم”ادھر تم ادھر ہم“ کا نعرہ لگاتے ہوئے اعلان کیا کہ جو ممبر اسمبلی ڈھاکہ کے اجلاس میں گیا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اور 23 مارچ 1971 ء کو اسمبلی کا بلایا گیا ڈھاکہ اجلاس کینسل کروایا گیا مغربی پاکستان کے لیڈر کے رویہ اور بنگالیوں میں پہلے سے پیدا شدہ احساس کمتری نے کام دکھایا اور بعض حلقوں کے مطابق مجیب اور بھٹو کے درمیان پہلے سے طے شدہ سازش کے نتیجہ میں ملک دولخت ہو گیا‘ مغربی بازو کے اکثریتی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو جس نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں پولینڈ کی طرف سے جنگ بندی اورمعاملہ کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی پیش کردہ قرار داد پھاڑتے ہوئے ہم گھاس کھا لیں اور ہزار سال تک لڑیں گے کااعلان کر کے ملک واپسی کی بجائے فلوجیسی ”مہلک“بیماری کے پیش نظر لندن چلے گئے۔ 16 دسمبر 1971 ء کو جنرل نیازی کی طرف سے ڈھاکہ کی پلیٹن گراؤنڈ میں ذلت آمیز طریقہ سے جنرل اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد پاکستان آرمی کے جنرل گل حسن کی طرف سے یحییٰ کو گرفتار کرنے کے بعد بھٹو ملک تشریف لائے اور سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا چارج سنبھال لیا۔

ذوالفقار علی بھٹو جو صدارتی طرز حکومت کے حامی تھے جس کی بابت چند رکنی اپوزیشن کو بخوبی علم تھا کہ بھٹو تمام اختیارات اپنی ذات کی حد تک مخصوص کرناچاہتے ہیں اور صدر چونکہ پروٹوکول میں پہلے نمبرپر ہوتا ہے مولوی صاحبان نے مجوزہ آئین میں ترامیم تجویز کیں اور تمام اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کر دیئے جس کو بھٹو نے قبول کر لیا اور متفقہ آئین 1973ء منظور ہو گیا تو بھٹو نے صدر کی بجائے وزیر اعظم کے عہدہ کا حلف لے کر سب کو حیران کر دیا اور پھر اسی متفقہ آئین میں اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر سات ترامیم اپنی من مرضی کی کر ڈالیں اور میرٹ سے ہٹ کر جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف مقرر کر دیا 1977ء کے انتخابات میں بھٹو نے تمام نشستیں جیتنے کی خواہش میں تاریخی دھاندلی کروالی جس پر اپوزیشن کے ایماء پر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیا اور گیارہ سال اپنی آخری سانس تک باوردی ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے رکھی جنرل ضیاء الحق نے موجودہ جمہوری چیمپئن سیاستدانوں کی پینری اپنے گملے میں کاشت کی اور 1985ء میں غیر جماعتی الیکشن کروا کر ایوان کے اندر مسلم لیگ قائم کی ضیاء الحق کو غیر جماعتی اسمبلی سے پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب ان کی مجلس شوریٰ کے چیئرمین خواجہ محمد صفدر جس کو انہوں نے سپیکر اسمبلی کیلئے نامزد کیا تھا ممبران نے ان کے مقابلہ میں فخر امام کو امیدوار نامزد کر کے منتخب کروا لیا اور ضیاء کے نامزد وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے پہلی ملاقات میں صدر سے دریافت کیا کہ آپ مارشل لاء کب اٹھا رہے ہیں۔ ضیاء الحق نے اپنی ہی قائم کردہ اسمبلی کو 29 مئی 1988ء کو توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کر دیا لیکن انتخابات سے قبل سی ون تھری کے حادثہ کا شکار ہو گئے تو سینٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان ایوان صدر پر قابض ہونے پر کامیاب ہو گئے 1988 ء کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو مرکز میں جبکہ نواز شریف پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے بینظیر بھٹو نے اپنی پہلی تقریر میں ہی قائد اعظم کی تصویر کی بجائے ”عدالتی شہید“ کی تصویر دیوار پر آویزاں کرلی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے باقاعدہ جنگ چھڑ گئی جیسے یہ مشرقی پنجاب ہے عوامی دور میں ہارس ٹریڈنگ اور قومی خزانہ کی لوٹ مار کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے 1990ء میں کرپشن کی بنیاد پر اسمبلیاں برخاست کر دی گئیں نئے انتخابات میں میاں نواز شریف وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گئے پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کو نظر انداز کر کے میاں صاحب نے اپنے ”منشی“ غلام صدر وارئیں کو بظاہر وزیر اعلیٰ بنا دیا جبکہ ڈی فیکٹو وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف تھے غلام اسحاق اور بینظیر گٹھہ جوڑ سے پنجاب اسمبلی کے سپیکر میاں منظور وٹو کو عدم اعتماد کے بعد وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا 1993ء میں صدر غلام اسحاق نے اسمبلی اور نواز شریف حکومت برطرف کر دی اور بلخ شیر مزاری کو نگران وزیر اعظم بنا دیا گیا اسمبلی اور حکومت کو نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے بحال کر دیا لیکن چندہفتوں کے بعد ہی ایک فارمولہ کے تحت نوازشریف اور غلام اسحاق دونوں کو فارغ کر دیا گیا 1993ء کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو مرکزمیں اور اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ چٹھہ گروپ پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے اور وسیم سجاد کے مقابلہ میں پیپلز پارٹی نے فاروق لغاری کو صدر پاکستان منتخب کروا لیا جس نے 1996 ء میں اپنی ہی جماعت کی حکومت کو کرپشن کے سنگین الزامات کے تحت برطرف کر دیا اور مرد اول آصف علی زرداری گرفتار ہو گئے۔ 1997ء کے انتخابات میں میاں نواز شریف کی مسلم لیگ ”بھاری مینڈیٹ“ کے ساتھ کامیاب ہو گئی میاں نوز شریف وزیر اعظم اور شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے میاں نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں تمام اداروں جن میں فوج‘ عدلیہ ایوان صدر اورپارلیمنٹ کو فتح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا سب سے پہلے آرمی چیف شیخ جہانگیر کرامت سے استعفیٰ طلب کیا اس کے بعد صدر لغاری کے اختیارات ”بغل مارکہ“ ترمیم سے ختم کیے اور پھر ان سے بھی جان چھڑا کرجسٹس رفیق تارڑ کو صدر بنا دیا اور پھر سپریم کورٹ کو سرکرنے کی مہم پر چل نکلے اور عدالت پر حملہ کروانے سے بھی گریز نہ کیا گیا اور سید سجاد علی شاہ کو بزوربازو عدلیہ سے نکال باہر کیا میاں نواز شریف نے بھاری مینڈیٹ کے نشہ میں بھٹو کی آمریت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا آرمی چیف کی تقرری کے معاملہ میں میرٹ سے ہٹ کر جنرل پرویز مشرف کی تقرری کی اور کارگل کے معاملہ پر اختلافات کے بعد اس کو بھی فارغ کرنے کی ٹھان لی لیکن بظاہر جنرل مشرف کو مزید دو سال کی ملازمت میں توسیع دے دی اور چند یوم بعد ہی جب وہ سری لنکا کے دورہ پر تھے اپنے سسرالی رشتہ دار ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کی ناکام کوشش کی اور اٹک قلعہ جا پہنچے جہاں سے سعودی عرب کی درخواست اور ایک معاہدہ پردستخط کر کے جان بچا کرملک سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے جنرل پرویز مشرف نے 1999 سے 2009 تک ضیاء الحق کے ریکارڈ توڑ دیئے آئین کا حلیہ بگاڑنے کے بعدانتخابات کروا کر جمالی حکومت قائم کی 2007 میں الیکشن مہم کے دوران 27دسمبر کو پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں۔ پرویز مشرف بھی چیف جسٹس افتخار چوہدری سے استعفیٰ حاصل کرنے کا ایڈوانچر کر بیٹھے جو ان کے گلے پڑ گیا انتخابات کے نتیجے میں مرکز میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ ن حکومت بنانے میں کامیاب ہوئیں اورملک میں پہلی بار انوکھا اتحاد قائم ہوا شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے ہو گئے مسلم لیگ مرکز میں جبکہ پی پی پنجاب میں شریک اقتدار ہوئی لیکن میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان یہ طے نہ ہو سکا کہ ان میں سے بڑا بھائی کون ہے دونوں ایک دوسرے کو بڑا بھائی کہتے سنے گئے۔ میثاق جمہوریت کا بہت شور تھا جو بعد میں مذاق جمہوریت بن گیا۔ گورنر سلمان تاثیر نے پنجاب حکومت کو معطل کر دیا تو ججز بحالی کی چلنے والی وکلاء تحریک میں مسلم لیگ (ن) اپنے دکھ کی وجہ سے براہ راست شامل ہو گئی اور آرمی چیف کی مداخلت سے ججز بحال کر دیئے گئے۔ پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد آصف علی زرداری صدر پاکستان بننے میں کامیاب ہو گئے۔ جو اپنے ماضی کے برعکس اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی توقعات کے برخلاف ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی شہرت کا حامل ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں پیپلز پارٹی حکومت کی انفرادیت یہ رہی کہ اس میں تقریباً سبھی سیاسی جماعتیں شامل رہی ہیں ایم کیو ایم کا متعدد بار روٹھنا اور پھر مان جانا بھی منفرد واقعہ ہے صدر آصف علی زرداری عالمی معاملات میں بھی بہت بہتر نظر آئے ہیں آرمی کے ساتھ حکومت کے مثالی تعلقات اپنی مثال آپ تھے پیپلز پارٹی کی حکومت مہنگائی اور توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی ہے امن و امان کامسئلہ اورخصوصاً کراچی میں عدم استحکام اور اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ عوام کیلئے خاصی پریشان کن تھی۔ اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ پیپلز پارٹی حکومت کی آنکھ مچولی عروج پر رہی پرویز مشرف کے این آر او کو حکومت نے پارلیمنٹ میں اون نہ کیا سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او پر فیصلہ پر عملدرآمد پر ختم کیے گئے مقدمات کھولنے اور سوئس عدالت کو خط پر حکومت نے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا اور توہین عدالت کی کارروائی پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تین منٹ کی سزا پر نا اہل ہو گئے راجہ رینٹل کے نام سے مشہور راجہ پرویز اشرف وزیر اعظم اور چوہدری شجاعت حسین کی ق لیگ کے پرویز الٰہی ڈپٹی وزیر اعظم بنا دیئے گئے اس دور حکومت میں کرپشن کی ناقابل یقین داستانیں رقم ہوئیں حکومت دہشت گردی اور توانائی بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی بلوچستان کا مسئلہ آتش فشاں بن گیا جہاں حکومت اور سیکورٹی کی ذمہ دار ایجنسیوں کی بری حکمت عملی کی بناء پر بیرون ممالک کی مداخلت عروج پر رہی صدر آصف علی زرداری نے ملکی اور غیر ملکی معاملات میں اپنا سافٹ امیچ قائم کیا پیپلز پارٹی اور خصوصاً آصف علی زرداری کے کریڈیٹ پر آئینی ترامیم جن میں صدر کے صوابدیدی اختیارات کاخاتمہ آرمی سربراہوں کی تقرری‘ گورنر کی تقرری اور اسمبلی توڑنے کے اختیارات کا خاتمہ اور صحیح معنوں میں آئین کو پارلیمانی نوعیت کا بنانے کا کارنامہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ گوادر پورٹ کو چائنہ کے حوالہ کرنا اور ایران کے ساتھ گیس سپلائی کا سعودی عرب اور امریکہ کی شدید مخالفت کے باوجو د معاہدہ جرات مندانہ فیصلے ہیں۔ 11 مئی 2013 ء کو منعقد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی تاریخ کی بد ترین شکست سے دوچار ہوئی اور محض سندھ کی علاقائی جماعت بن کر رہ گئی البتہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے پاکستان مسلم لیگ نواز شریف پنجاب اوروفاق میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی لیکن میاں نواز شریف نے جس ایجنڈا پر عوام سے ووٹ حاصل کیے ہیں ایک سال کے قلیل عرصہ میں ہی اپنی مقبولیت کھو چکی ہے توانائی کے بحران کو مسئلہ نمبرایک قرار دینے کے باوجود کوئی واضح حکمت عملی حکومت کی طرف سے سامنے نہیں آئی مہنگائی کا طوفان کنٹرول ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتا جا رہا ہے میگا سکینڈل میڈیا کی زینت بننا شروع ہو گئے ہیں مسلم لیگ نے صدارتی انتخاب واضح اکثریت سے جیت لیا اور اس عہدہ کے لیے ممنون حسین‘ سرتاج عزیز‘ غوث علی شاہ اور ظفرا قبال جھگڑا پرفوقیت حاصل کر گئے ہیں ممتاز بھٹو شائد اپنے آپ کو سب سے زیادہ اہل قرار دے بیٹھے تھے وہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے کی بجائے براہ راست زمین پر آ گرے کیونکہ ایم کیو ایم سے صدارتی انتخابات میں صلح صفائی پر سندھ کی گورنر شپ پھر عشرت العباد کی جھولی میں جا گری گورنر پنجاب کے لیے برطانیہ سے چوہدری محمد سرور امپورٹ کر لیے گئے ہیں جنکی دور جلا وطنی کی خدمت ان کا میرٹ ہیں میاں نواز شریف نے الیکشن سے قبل پرویز مشرف کو معاف کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود آرٹیکل 6 کے تحت 3 نومبر 2007 کے اقدام پر بغاوت کا مقدمہ خصوصی عدالت میں دائر کروایا ہے۔ پرویز مشرف‘بے نظیر بھٹو‘ اکبر بگٹی مقدمات میں گرفتار ہو کر ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ضیاء الحق نے جہادی کلچر کو پروان چڑھایا تھا اور کشمیر کی تحریک آزادی کو بھرپور سپورٹ کیا جبکہ پرویز مشرف دور میں مجاہدین کے کیمپ بند کرنے سمیت جہادی کلچر کو کچلنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے میاں نواز شریف نے اپنے حلف کی تقریب میں من موہن سنگھ کوباقاعدہ دعوت تک دے ڈالی وہ تو بھلا ہوا ن کاکہ وہ تشریف نہ لائے میاں صاحب کی طرف سے ”امن کی آشا“ کو پروان چڑھائے جانے کے واضح اشارے مل رہے ہیں قائد اعظم کی وراثت کے دعویدار بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنماؤں کو 1971ء میں متحدہ پاکستان کی حمایت پر پھانسی اور عمر قید کی سزائیں دی جا رہی ہیں جس پر حکومت کو مذمت اور احتجاج کی توفیق نہیں ہوئی اور اس کوبنگلہ دیشن کا داخلی مسئلہ قرار دیا گیا۔

حکومت نے مدت ملازمت پوری ہونے پر جنرل پرویز کیانی کی جگہ گجرات سے تعلق رکھنے والے نشان حیدر میجر شبیر شریف شہید کے بھائی جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف مقرر کیا لمبی اننگز کھیلنے کے بعد دسمبر 2013 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہوئے ہیں جنکی جگہ تصدیق حسین جیلانی چیف جسٹس بنے جو اپنا مختصر دور غیر متنازعہ حیثیت میں گزار کر ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور ان کی جگہ ناصر الملک چیف جسٹس بنے ہیں افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ کا آخری دن بھی متنازعہ ہی رہا جب الوداعی تقریب کی ویڈیو کوریج صرف جیو نیوز کو جاری کی گئی۔

میاں نواز شریف اور افتخار محمد چوہدری دونوں براہ راست جنرل پرویز مشرف کے متاثرین میں شامل ہیں افتخار محمد نے پرویز مشرف کو فکس کرنے کی تحریک کی جس پر میاں نواز شریف نے پھرتی دکھائی اور باقاعدہ مقدمہ شروع کر رکھاہے جو بعض و اقفان حال کے مطابق نواز حکومت کی مشکلات کا نقطہ آغاز ثابت ہوا ہے بھاری مینڈیٹ کی حامل لیگی حکومت ہنی مون پریڈ میں ہی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی تھی حکومت کا ہر اٹھنے والا قدم الٹا پڑا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ میاں نواز شریف اکتوبر 1999 ء کے واقعہ کے بعد سیاسی طور بالغ ہو گئے ہیں جس کے ثبوت کے طور پر بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت اور پانچ سال تک فرینڈلی اپوزیشن کے کردار کو پیش کیا جاتا تھا مگر مئی 2013 کے انتخابات کے بعد حکومت سنبھالنے پرمیاں صاحبان کا پرانا کردار اور رویہ ہی دیکھنے میں آیا ہے وہی ہٹ دھرمی اور تمام اداروں کو اپنے تسلط میں رکھنے کی آمرانہ خواہش۔

عمران خان صوبہ کے پی کے میں حکومت بنانے کے باوجود انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور احتجاج کی راہ پر چل نکلے اور چار حلقوں کے ووٹوں کی انگوٹھوں کے تجزیہ کا مطالبہ کیا جس کو فرسودہ عدالتی نظام کے ذریعے ناکام بنایا گیا اور حکومت اصولی طور پر مطالبہ کو درست تسلیم کرنے کے باوجود عملی طور پر ماننے سے انکاری ہے عمران خاں نے افتخار محمدچوہدری اور عدلیہ کے کردار کو ہدف تنقید بنایا جس پر افتخار محمد چوہدری نے اپنا آزمودہ توہین عدالت کا ہتھیار استعمال کیا جس پر عمران نے معذرت کر کے یوسف رضا گیلانی بننے سے بچ گئے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد عمران نے کھلے الفاظ میں انتخابات میں دھاندلی چیف جسٹس جیو گروپ اور ن لیگ کی ملی بھگت کا الزام جلسہ عام میں لگانا شروع کر دیا۔ کراچی میں نامور صحافی اور اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا جس پر جیو نے حملہ کا الزام براہ راست ڈی جی آئی ایس آئی پر عائد کر کے 9 گھنٹے تک ان کا میڈیا ٹرائل کیا جس پر حکومت اور وزارت اطلاعات نے مداخلت کرنا گوارا نہ کیا آرمی کے احتجاج پر حکومت نے بلاواسطہ اور بالواسطہ اپنا وزن جیو کے پلڑے میں ڈال دیا اور وزیر اعظم فوری طور پر حامد میر کی عیادت کے لیے جا پہنچے لیکن آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر جانا گوارا نہ کیا جس پر آرمی چیف وزیر اعظم کی عیادت کے جواب میں جوانوں سے یکجہتی کے لیے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر چلے گئے اور حکومت اور جیو نیوز کو اپنا مؤقف واضح کر دیا آرمی نے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف جو کہ حامد میر کے ذاتی دوست ہیں کے ذریعے جیو نیوز کے خلاف کارروائی کے لیے ریفرنس پیمرا کو ارسال کر دیا جس کو حکومت نے ہر ممکن طریقہ سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جس سے حالات مزید بگاڑ کا شکار ہو گئے پیمرا سے بہ امر مجبوری تمام حیلوں بہانوں کے بعد ایک ہفتہ کی نشریات روکنے اور ایک کروڑ روپے ہرجانہ کی سزا سنا کر معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش ہوئی حکومت اور آرمی کے درمیان پرویز مشروف کے خلاف مقدمہ کو ختم کرنے کے لیے خاموش انڈر سٹینڈنگ بھی ہوئی جو کہ چوہدری نثار پرویز مشرف کے بیرون ملک بھجوانے کی کمٹمنٹ کر چکے تھے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا اور پرویز مشرف کی عدالت حاضری کے معاملہ میں بھی آرمی نے بھرپور سٹینڈ لیا اور انہیں عدالت کی بجائے ہسپتال بھجوا دیا گیا۔

نواز شریف حکومت توانائی بحران کے خاتمہ اور عوام کے معیار زندگی کی بہتری کے ایجنڈا اور منشور پر برسر اقتدار آئی ہے مگر توانائی کا بحران اور مہنگائی پیپلز پارٹی کے دور حکومت سے بھی کئی گنا بڑھ چکی ہے جس کو کنٹرول کرنے سے حکومتی ذمہ داران نے واضح طور پر ناکامی کا اعتراف کر کے عوام سے معافی مانگ لی ہے پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سالوں میں بجلی کی قیمت پانچ روپے فی یونٹ اضافہ کیا تھا جبکہ حکومت نے اپنے پانچ ماہ کے اندر ہی پانچ روپے یونٹ اضافہ کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے اس کے باوجود لوڈشیڈنگ میں کسی طور کمی کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ عمران خان کا دھاندلی کے خلاف احتجاج اور جلسے جاری تھے کہ حکومت جلیانوالہ باغ جیسا کارنامہ کر دکھایا اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں عوامی تحریک کے دفتر کے بیئرر ہٹانے کے معاملہ میں طاہر القادری کی پاکستان آمد اور اسلام آباد سے لاہور تک مارچ کے اعلان کے بعد پولیس کے ذریعے 13 افراد کو شہید کر دیا اور اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے خادم اعلیٰ‘ وزیر قانون سمیت کوئی بھی تیار نہیں اس واقع سے دو روز قبل آئی جی پنجاب خان بیگ کو اچانک تبدیل کر دیا گیا جو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایسا کارنامہ کروانے سے معذرت کر لی تھی۔ عمران خان کے افتخار محمد چوہدری پر سنگین الزامات کے بعد ان کے بیٹے ارسلان افتخار جس کی کرپشن کے داستانیں بڑی دلچسپ ہیں اور بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض نے گزشتہ دور میں ان کے خلاف باقاعدہ درخواست بھی گزاری جس پر سوموٹو ایکشن بھی ہوا اور والد محترم کے چیف جسٹس ہونے کی بناء پر اس معاملہ پر کوئی ضابطہ کی کارروائی نہ ہو سکی تھی اسی ارسلان افتخار جسے ڈان کے نام سے پکارا جاتا ہے کو اچانک بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کا وائس چیئرمین لگا دیا گیا جو عوامی احتجاج پر فیصلہ واپس لینا پڑا۔ افتخار محمد چوہدری نے عمران خان کو 20 ارب روپے ہرجانہ کا نوٹس دے دیا ہے اور اگر اس پر کارروائی عدالت میں گئی تو یقینا ایک پنڈورا باکس کھلے گا اور افتخار محمد چوہدری کوہتک عزت کی کارروائی کے لیے اپنی عزت ثابت کرنا پڑے گی وہ وکلاء جو کبھی چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار کے نعرے لگاتے تھے ان کی ریٹائرمنٹ پر انہیں الوداعی ڈنر دینے کے روادار بھی نہیں ہوئے سپریم کورٹ بار کے نائب صدر کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ پر سپریم کورٹ بار نے اپنے نائب صدر کے کی رکنیت ہی معطل کر دی تھی۔افتخار چوہدری نے کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت غیر آئینی طور پر ختم کی گئی تو وکلاء احتجاج کا آغاز کوئٹہ سے کریں گے جس پرپاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری محمد رمضان نے سابق چیف جسٹس کی مذمت کی ہے اور انہیں سیاسی معاملات پر رائے زنی کے لیے دو سال انتظار کا مشورہ دیا ہے اور حاضر ججوں کو ایسی تقاریب میں شریک نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے۔
آرمی نے شمالی وزیر ستان میں ضرب عضب کے نام سے آپریشن شروع کر رکھا ہے جبکہ حکومت طالبان سے ہرحال میں مذاکرات کی حامی تھی اور اس کے لیے انتہائی کوششیں بھی کی گئی۔ 11 مئی2013 کے انتخابات کے نتیجہ میں بنے میں مسلم لیگ (ن) کی دوتہائی مینڈیٹ کی حامل حکومت نے عوام کی بہتری کے لیے تو کچھ نہیں کیا ملک جوکہ پہلے ہی قرضہ میں ڈوبا ہوا ہے اس کے قرضوں میں اضافہ کر کے اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث بنی ہے اداروں کا استحکام کی بجائے نظریاتی محاذ پر بھی شکست خوردہ افعال کا باعث بنی ہے۔ میاں نواز شریف اپنی حلف برداری میں من موہن سنگھ کو تو لانے میں کامیاب نہ ہوئے تھے لیکن خود بھارت کے انتہا پسند ہندو نریندر مودی کی حلف برداری میں جا پہنچے اور مودی نے دوستی کی بات کرنے اور سننے کی بجائے انہیں چارج شیٹ تھما کر بھجوا دیا۔

سال2014 قوم کیلئے تکلیف دہ رہا 09جنوری کو دہشت گردوں نے کراچی میں SSP (CID) چوہدری محمد اسلم کی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں چوہدری اسلم سمیت 3اہلکار شہید ہو گئے۔ چوہدری اسلم کو CID پولیس میں ایک دبنگ آفیسر سمجھا جاتا تھا تھر میں غذائی قلت اوربیماری کا شکار کمسن بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو اکتوبر اور نومبر میں کئی گنا بڑھ گیا اور سال بھر میں حکومتی غفلت کے باعث ہلاک بچوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی۔ 19اپریل کو دہشت گردوں نے صحافی حامد میر پر کراچی ائیرپورٹ سے دفتر جاتے ہوئے حملہ کر دیا جس میں وہ بال بال بچے جس کے بعد جیو نیوز نے اپنی سکرین پر ISIکے سربراہ جنرل ظہیر اسلام کی تصویر دکھا کر حملے کا ذمہ قرار دیا۔ چینل کی ملک دشمن پالیسی کے خلاف یک زبان ہو کر پاکستان فوج کی حمایت میں باہر نکل آیا۔ 9جون کو دہشت گردوں نے کراچی ائیرپورٹ پر حملہ کیا جس کے دوران سیکورٹی اہلکاروں سمیت 28افراد شہید ہو گئے جبکہ فورسز کی کارروائی کے دوران 10دہشت گرد بھی مارے گئے۔ 15جون کو پاک فوج کی جانب دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے آپریشن ضرب عضب کے نام سے بھرپور کارروائی کا آغاز کیا گیا اور شمالی وزیرستان میں باقاعدہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔ 17جون لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کے معاملہ پر پولیس اور منہاج القرآن کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجہ میں 14کارکن شہید اور 80 سے زائد زخمی ہو گئے پولیس کی جانب سے اس کارروائی پر صوبائی حکومت سمیت وفاقی حکومت کو شدید دباؤ کاسامناکرناپڑا اور اس کے نتیجہ میں رانا ثناء وزیر قانون پنجاب کو اپنے عہدہ سے ہاتھ دھونا پڑے۔14 اگست 2014کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی گئی اور اسلام آباد میں طویل مدتی دھرنا دیاگیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے دیا جانا والا دھرنا 126دن کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ جسے پاکستان سمیت دنیا کا طویل ترین دھرنا کہا جا سکتا ہے۔ 3نومبر کو دہشت گردی کا المناک واقعہ واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب کے بعد شرکاء جونہی باہر نکلے تو خود کش حملہ نے خود کو باردوی مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجہ میں 59افراد جان بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ 16دسمبر کو دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا جس کے دوران 132بچوں سمیت 146افراد شہید اور 100سے زائد زخمی ہوئے جس کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت یک زبان ہوئی اور دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کا فیصلہ ہوا۔ اس واقعہ پر ہی تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا کو ختم کر دیا۔ 19دسمبر کوملک میں 6 سال بعد ایک مرتبہ پھر سزائے موت کے قانون پر عملدرآمد ہوا اور GHQپر حملہ کرنے والے مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور پرویز مشرف حملہ کیش کے مجرم ارشد محمود کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ 25 دسمبر کو وزیر اعظم نواز شریف نے دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے 20نکات پر مشتمل قومی ایکشن پلان کا اعلان کیا۔جس پر تمام پارلیمانی جماعتوں اور عسکری قیادت نے اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ جس کے مطابق ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے نیکٹا کو فعال اور فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

سال 2015 میں 11 مارچ کو کراچی کے علاقہ عزیز آباد میں رینجر نے MQMکے سیاسی مرکز 90 اوراس سے ملحقہ علاقے کے راستے بند کر کے سرچ آپریشن کیا جس کے دوران کئی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور غیر ملکی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ 14مارچ کو اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ملک کی نامور ماڈل ایان علی کو گرفتار کر کے 5لاکھ امریکی ڈالر برآمد کیے گئے۔ 26اگست کو چیئرمین سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر و سابق سینٹر ڈاکٹر عاصم حسین کو کرپشن کے الزام کے میں حراست میں لیا گیا۔ وہ کئی نجی یونیورسٹوں اور ہسپتالوں کے مالک ہیں اورسابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں دوران تفتیش انہوں نے دہشت گردوں کے اپنے ہسپتال میں علاج سمیت کئی اہم انکشافات کیے۔ KSE کے سابق ایم ڈی شاہد حامد قتل کیس کے مرکزی مجرم صولت مرزا کو 12مئی کو مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی 16 سالہ سے سزا موت کے منتظر قیدی صولت مرزا کی تمام رحم کی اپیلیں مسترد ہو گئی تھیں صولت مرزا نے پھانسی سے قبل سنسنی خیز انکشافات بھی کئے اور بڑے بڑے معاملات سے پردہ اٹھایا۔ 16جون کو پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پشاور میں پیپلز پارٹی کے عہدے داروں کی تقریب میں پاک فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کرداری کشی مت کرو سرحد وں پر آپ کو للکارا جا رہا ہے ہم آپ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تنگ کیا گیا تو جرنیلوں کا کچھا چھٹا کھول دوں گا انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی جنگ لڑنا آتی ہے آپ کو 3سال رہنا ہے ہمیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔ہمیں تنگ کرنے کی کوشش کی تو ہم بھی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم کھڑے ہوئے تو فاٹا سے کراچی تک ملک بند ہو گا جب تک چاہیں گے ملک بند رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اشارے پر لوگوں کی جان لے لی جاتی ہے ہمارے پاس ایسے لوگ ہیں جو کبھی بکے ہیں نہ کبھی بکیں گے ہم نے جسے وکٹ دی ہوئی ہے اسے کھیلنے تو دو اس ملک کی معیشت ٹھیک کرنے دو۔ پنجاب کے شہر قصور میں حسین خان والا دیہات میں ایک مقامی گروہ کے ملزمان 286 کمسن بچیوں اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی ویڈیو بنا کر بلیک میل کر رہے تھے یہ سلسلہ 2009؁ء سے جاری تھا۔ یہ واقعہ ملکی تاریخ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا سب سے بڑا سکینڈل ہے۔ ویڈیو کلپز کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی کی اور ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کی طرف سے انتہائی کمزور کیس بنا کر عدالت میں پیش کرنے پر ملزمان کو باآسانی ضمانتیں مل گئیں۔ اس معاملہ پر جوڈیشنل انکوائری کا اعلان بھی کیا گیا۔ ممتاز سماجی رہنما اور معروف NGO کی ڈائریکٹر سبین محمود کو24 اپریل کو کراچی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کوئی حادثہ نہیں بلکہ منظم دہشت گردی تھی۔ فیکٹری کو آگ بھتہ نہ دینے پر لگائی گئی۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی JIT رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سیاسی جماعت MQMکے اعلیٰ عہدیداران نے فیکٹری مالکان سے 20کروڑ روپے بھتہ مانگا تھا فیکٹری مالکان بات کرنے گئے تو اعلیٰ عہدیدار نے لاتعلقی ظاہرکی۔جبکہ بھتہ نہ ملنے پر کیمیکل پھینک کر علی انٹرپرائیزز کو آگ لگا دی گئی اور الٹا مقدمہ بھی فیکٹری مالکان کے خلاف درج کروا دیا گیا اور فرنٹ مین کے ذریعے کیس ختم کروانے کیلئے 15کروڑ روپے لیے گئے۔JIT رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم KMC کا سینٹری ورکر اور سیاسی جماعت کا رکن ہے۔

25دسمبرکو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی افغانستان کے دورہ پر تھے اور انہوں نے نواز شریف کو فون پر سالگرہ کی مبارک باد دی اور ٹویٹر پیغام میں خواہش ظاہر کی کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف سے لاہور میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ لاہور پہنچنے پر نواز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا بعد ازاں وہ نواز شریف کے ہمراہ جاتی عمرہ پہنچنے اور وزیر اعظم کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کو نواز شریف کی نواسی کی شادی کی مبارک باد دی۔ سیکرٹری خارجہ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم کے دورہ کو خیر سگالی کا دورہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے نواز شریف سے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہارکیا تھا جس پر وزیر اعظم پاکستان نے انہیں خوش دلی کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیر اعظم اور ان کا وفد بغیر پاکستان ویزہ کے پاکستان میں آیا۔ اور یہ دنیا کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔

سال 2016 جنوری میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے یوٹیوب پر عائد پابند ختم کرنے کا اعلان کیا۔ 18جنوری کو کوئٹہ انسداد دہشت عدالت نے اکبر بگٹی کے بیٹے نوابزادہ جمیل بگٹی کی والدکی قبر کشائی کی درخواست مسترد کردی اور تقریباً 6سال بعد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پرویزمشرف سمیت اس وقت کے وزیرداخلہ آفتاب احمدخان شیرپاؤ اورصوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی کو کیس سے بری کر دیا۔ 26جنوری کو حکومت کی جانب سے PIA کی ممکنہ نجکاری کے خلاف PIA ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے ملک بھرمیں قومی ادارے کے دفاتر کو تالے لگا دیئے اور فلائٹ آپریشن بھی معطل کر دیا۔ 20جنوری کو باچاخان یونیورسٹی پر مسلح افراد کے حملہ اور شدید فائرنگ کے نتیجہ میں 20افراد شہید ہو گئے۔ جبکہ پاک فوج کی جانب سے جواب کارروائی میں 4 دہشت گرد بھی ہلاک ہو گئے۔ 30جنوری کو رینجر نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کو کراچی میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کر لیا۔جو اغواء برائے تاوان اور سیکورٹی فورسز پر حملہ جیسے سنگین مقدمات میں پولیس کومطلوب تھا۔ عذیربلوچ 2013؁ء میں بیرون ملک فرار ہو گیا تھا۔29فروری کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کوفائرنگ کے ذریعے قتل کرنے والے ممتاز قادری کی رحم کی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی کی اطلاع ملتے بھی مختلف شہروں میں ممتاز قادری کے حامی سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا۔9 مارچ کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے سلمان تاثیر کو بلوچستان سے سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس اداروں نے مشترکہ کارروائی کے دوران باز یاب کروایا۔ شہباز تاثیر کو تقریباً 5سال قبل اگست 2011؁ء میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اغواء کیا گیا تھا۔ 17مارچ کوسابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد حکومت پاکستان نے بھی بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔24مارچ کو بلوچستان میں حساس اداروں نے تاریخ ساز کارروائی کرتے ہوئے ملک دشمن سرگرمیوں اور دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث بھارتی خفیہ تنظیم کا راء کا آن ڈیوٹی آفیسر گرفتار کر لیا گیا۔ بلوچستان سے پکڑا گیا بھارتی دہشت گرد کلبوشن یادیو بھارتی نیوی میں حاضر سروس کمانڈر ہے جوکہ کلبوشن یادیو نے کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا اعتراف بھی کیا۔ گرفتاری کے بعد بھارت نے تسلیم کیا تھا کہ بلوچستان سے پکڑا جانا والا جاسوس کلبوشن یادیو ان کی نیوی کا آفیسر تھا جس نے بحریہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی تھی۔ 4اپریل کو پانامہ کی ایک لاء فرم موساک فونسیکا سے پانامہ پیپرز کے نام سے لاکھوں دستاویزات انٹرنیٹ پر لیک ہو گئی جس میں عالمی رہنماؤں نے اپنا کالا دھن کہا اور کیسے چھپایا ساری تفصیلات منظر عام پر آ گئیں۔ پانامہ پیپرز میں کئی ممالک کے سربراہ‘ سیاسی رہنما ؤں اور دنیا بھر کے امیر ترین افراد جن میں وزیر اعظم نواز شریف کے دونوں صاحبزادوں حسن‘ حسین اور صاحبزادی مریم صفدر‘ آذربائیجان کے صدر کا خاندان‘ ملائیشیا کے وزیر اعظم کا بیٹا‘ آئس لینڈ کے وزیر اعظم‘روسی صدر کے قریبی دوست‘ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے والد‘ مصر کے صدر کے بیٹے‘ اسپین کے سابق بادشاہ کی بہن‘ سابق چینی وزیراعظم کی بیٹی کے بام میں شامل تھے۔ 21 اپریل کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کرپشن میں ملوث پاک فوج کے 11 اعلیٰ افسران کو نوکری سے برطرف کر دیا اور ان کو دی گئی مراعات‘ میڈیلز اور دیگر اعزات بھی واپس لے لیے گئے جبکہ کرپشن کی رقم واپس کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ برطرف کیے جانے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ کھٹک‘ میجر جنرل اعجاز شاہد‘ 5 بریگیڈئرز بشمول حیدر‘ سیف‘اسد‘ عامر‘ 3 لیفٹیننٹ کرنل اور مینجر نجیب شامل تھے۔6مئی کو نیب نے سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپہ مارا اور گھر کی تلاشی کے دوران کرنسی کے بھرے 12بیگ برآمد کیے نوٹوں سے بھرے بیگوں سے ملنے والی رقم کو گننے کیلئے نیب حکام کو کئی گھنٹے لگے۔جوکہ 75کروڑ سے زائد ہے۔جس میں ملکی و غیر ملکی کرنسی بھی شامل تھی۔ سیکرٹری خزانہ کی گاڑی سے بھی ڈیڑھ کروڑ روپے برآمد کیے گئے۔ جبکہ گھر سے 4کروڑ روپے مالیت کا سونا‘ پرائیز بانڈ و کرنسی نوٹ چیک کرنے والی 4 مشینوں سمیت دیگر دستاویزات بھی قبضہ میں لے لی گئیں۔ 10مئی کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کو افغان اور غیر ملکی فوجیوں کی ایک مشترکہ کارروائی میں گیان کے علاقہ کے بازیاب کروایا گیا۔ علی حیدر کو 9مئی 2013؁ء کو پیپلز پارٹی کے دفتر کے باہر سے اغواء کیا گیا۔ 22مئی کو بلوچستان کے علاقے نوشکئی میں امریکی ڈرون حملہ میں متعدد طالبان رہنما ہلاک ہوئی جن میں طالبان ملا اختر منصور بھی شامل تھے۔3جون کو جج کرپشن کیس میں سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعیدکاظمی کو 16 سال قید کی سزا اور سابق DG جج راؤشکیل کو 40 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ 21جون کو کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے اویس علی شاہ کو اغواء کر لیا گیا۔ جو بعد ازاں 19جولائی کو ٹانک سے بازیاب کروا لیاگیا۔ 22 جون کو عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ 27جون کو لاہور کے 50 مفتیان کرام کی تنظیم اتحاد امت کے مشترکہ شرعی فتوے میں کہا گیا کہ مرد اور عورتیں ایسے خواجہ سراؤں سے نکاح کر سکتے ہیں جن میں مرد یا عورت کی واضح علامات پائی جاتی ہیں۔ 8جولائی کو کشمیری حریت پسند رہنما برہان وانی کو شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد کشمیری میں نا ختم ہونے والے ہنگامے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشیدگی میں 100 سے زائد کشمیری مسلمان شہید کر دیئے گئے۔ 9جولائی کو بابائے انسانیت عبدالستار ایدھی کراچی میں انتقال کر گئے۔ ایدھی وہ دوسری شخصیت تھے جنہیں قائد اعظم کے بعد یہ اعزاز دیا گیا کہ گن کیرئیر پر ان کی میت کو تمام اعزاز کے ساتھ لایا گیا۔ 26جولائی کو سندھ حکومت نے قائم علی شاہ کو سبکدوش کر کے مراد علی شاہ کو نیا وزیر اعلیٰ نامزد کر دیا۔ 8اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خود کش حملہ ہوا جس میں 60 وکلاء سمیت 73افراد شہید اور 140افراد زخمی ہوئے۔ قومی اسمبلی میں MQM نے اپنے ہی قرار کے خلاف قرار داد مشترکہ طور پر منظور کر لی۔ قومی اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف فاروق ستار سمیت MQM کے 24 ارکان نے مذمتی قرار داد پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرار داد میں پاکستان مخالف نعروں پر الطاف حسین پر کارروائی کامطالبہ کیا گیا۔ 3ستمبر کو FBR نے پانامہ لیکس کے معاملہ پر وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان سمیت پانامہ پیپرز میں شامل 600 پاکستانیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی۔ 29 ستمبر کو بھارتی فوج نے رات گئے پاکستانی حدود میں سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ کیا اور کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے دو پاکستان اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی سے 14بھارتی فوجی مارے گئے اور ایک بھارتی فوجی کو گرفتار کر لیا گیا۔ پاک فوج نے سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ مسترد کر دیا بعد ازاں بھارتی حکومت سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہی اور جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا۔ 7 اکتوبر کو پاکستانی انگریزی اخبار ڈان نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے متعلق متنازعہ خبر شائع کی جو بڑا ایشو بڑا بن گیا۔ صحافی سرل المیڈاکا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا وزیر اطلاعات پرویز رشید کو برطرف کر دیا گیا۔ تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی بعد ازاں صحافی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی۔ 20اکتوبر کو سپریم کورٹ میں تحریک انصاف عوامی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کی درخواست پر پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم سے جواب طلب کرتے ہوئے باقاعدہ سماعت شروع کی گئی۔ 9نومبر کو وفاق نے گورنر سندھ عشرت العباد کو سبکدوش کرتے ہوئے جسٹس (ر) سید الزمان صدیقی کو سندھ کا 30واں گورنر مقرر کیا۔ عشرت العباد کو طویل مدت تک گورنر رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ 14 سال گورنر کے عہدے پر فائز رہے اور کسی حکومت میں متنازعہ نہ ہوئے۔ عشرت العباد نے 3صدور 5وزراء اعظم 4 وزراء اعلیٰ کے ساتھ کام کیا۔

26نومبر کووزیراعظم نے لیفٹینٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جنرل راحیل شریف کی جگہ نیا آرمی چیف مقرر کردیا، اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود کی جگہ مقرر کرنے کا اعلان کیا. آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس کی تعیناتی کے بعد تین لیفٹننٹ جنرلز نے سپر سیڈ ہونے پر حسب معمول ریٹائرمنٹ لے لی. قمر باجوہ بلوچ رجمنٹ سے چوتھے آرمی چیف ہیں، ان کی تقرری سے وزیراعظم نواز شریف کو پانچواں آرمی چیف مقرر کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔29 نومبرکو آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنے مدت ملازمت پوری کرکے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے اور انہوں نے تقریب میں پاک فوج کی کمان نئے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے حوالے کردی، راحیل شریف جنرل وحید کاکڑ کے بعد دوسرے آرمی چیف تھے جنہوں نے توسیع لینے سے انکار کردیا. قبل ازیں راحیل شریف کے اعزاز میں ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم میں الگ الگ الوداعی تقاریب منعقد کی گئیں، صدر، وزیراعظم، تمام وزرا اور تمام سیاسی جماعتوں نے راحیل شریف کی نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضرب عضب، کراچی آپریشن سمیت دیگر خدمات کو سراہا اور انہیں تاریخ کا بہترین آرمی چیف قرار دیا. یکم دسمبرکو سپریم کورٹ نے حکومت کو 15 مارچ سے 15 مئی کے دوران مردم شماری کرنے کا حکم جاری کردیا اور ریمارکس دیے کہ لگتا ہے کہ حکومت کی مردم شماری کرانے کی نیت ہی نہیں اگر ایسا ہے تو آئین سے مردم شماری کی شق ہی نکال دی جائے تو بہتر ہے.حکومت نے سپریم کورٹ کو مردم شماری کی یقین دہانی کرادی. آخری مردم شماری 1998ء میں ہوئی تھی۔ تین دسمبرکو سانحہ بلدیہ کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کو بنکاک پولیس اور انٹرپول نے مشترکہ کارروائی میں گرفتار کرلیا بعدازاں اسے کراچی منتقل کردیا گیا جہاں اس نے لرزہ خیز انکشافات اور اعترافات کیے. ملزم نے 12ستمبر 2012ء کو سائٹ کراچی میں واقع فیکٹری علی انٹرپرائز کو بھتہ نہ دینے پر ساتھیوں کی مدد سیآگ لگادی نتیجے میں 259 افراد زندہ جل گئے تھے۔ 7 دسمبرکوچترال سے اسلام آباد جانے والا پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ (فلائٹ 661) ایبٹ آباد کے نزدیک حویلیاں میں گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار 47 افراد جاں بحق ہوگئے، مسافروں میں معروف مذہبی شخصیت اور ماضی کے گلوکار جنید جمشید مع اہلیہ، ڈپٹی کمشنر چترال، تین غیر ملکی اور عملے کے 5 ارکان شامل تھے. طیارے سے متعلق انکشافات ہوئے کہ وہ پہلے ہی خراب تھا اس کے باوجود اسے پرواز کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ 7دسمبرکو صدر مملکت ممنون حسین نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس ثاقب نثار کو نیا چیف جسٹس مقرر کردیا. وزارت قانون نے صدر ممنون حسین کی منظوری سے یکم جنوری سے انہیں 25 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، وہ 17 جنوری 2019ء کو ریٹائرڈ ہوں گے، انہیں موجودہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی جگہ مقرر کیا گیا ہے جو کہ 30 دسمبر کو ریٹائرڈ ہوگئے۔جسٹس ثاقب نثار نے اکتیس دسمبر کو اپنے عہدے کاحلف اٹھایا، ایوان صدر میں صدر ممنون حسین نے ان سے حلف لیا۔ 9 دسمبرکو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف جاری پاناما کیس کی سماعت کے دوران ہونے والی تمام تر کارروائی کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے باعث مقدمے کی از سر نو سماعت ہوگی، اب تک کی سماعت کو یوں سمجھا جائے کہ کچھ سنا ہی نہیں. قبل ازیں سپریم کورٹ نے کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی تھی تاہم فریق تحریک انصاف نے اسے مسترد کردیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے کیس کا فیصلہ 31 دسمبر سے قبل کرنے کر درخواست کی جسے چیف جسٹس نے مسترد کردیا اور ریمارکس دیے کہ اتنے کم مدت میں فیصلہ ممکن نہیں فیصلہ اب نئے چیف جسٹس ہی کریں گے۔ بعدازاں عمران خان نے پاناما کیس کا فیصلہ سڑکوں پر کرنے کا اعلان کیا اور 13 دسمبر کو انہوں نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب پاناما کیس کا فیصلہ پارلیمنٹ میں کریں گے۔ 11 دسمبر کو ملک کے طاقت ور ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی(انٹر سروسز انٹیلی جنس) کے نئے سربراہ سمیت ڈی جی آئی یس پی آر اور دیگر اہم عہدوں پر تعیناتیاں کی گئیں۔ کراچی آپریشن کے اہم کردار کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی رینجرز سندھ لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی جگہ میجر جنرل محمد سعید کو مقرر کردیا گیا جب کہ نوید مختار کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا صدر اور بلال اکبر کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کردیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے ڈی جی عاصم سلیم باجوہ کو جی ایچ کیو میں انسپکٹر جنرل آرمز تعینات کرکے ان کی جگہ 15دسمبر کو میجر جنرل آصف غفور کر مقرر کردیا گیا۔ 17 دسمبر کو کوئٹہ سول اسپتال دھماکے پر بنے کمیشن نے رپورٹ جاری کی جس میں وزارت داخلہ کو کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی میں ناکام قرار دیا گیا جس پر اپوزیشن جماعتوں نے شور مچایا اور نثار کی برطرفی کا مطالبہ کیا جب کہ چوہدری نثار نے رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ 21دسمبرکو نیب نے بلوچستان کے میگا کرپشن اسکینڈل کے مرتکب سابق سیکریٹری خزانہ بلوچستان اور وزیراعلیٰ کے مشیر خزانہ کی دو ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی. سابق سیکریٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی اور ٹھیکے دار سہیل شاہ پر 2 ارب 10 کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام تھا، نیب نے سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کو بھی گرفتار کیا تھا، چھ مئی کو چھاپے کے وقت مشتاق رئیسانی کے گھر سے 75 کروڑ روپے کی رقم سے بھرے ہوئے 14 بیگ ملے تھے۔ 23 دسمبر کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری ڈیڑھ سال بعد وطن واپس پہنچ گئے انہوں نے ایئرپورٹ اولڈ ٹرمینل پر جلسہ کیا اور مخالفین کو باور کرایا کہ وہ جانے کے لیے نہیں آئے، 27 دسمبر کو جلسے میں عوام کو خوشخبری دیں گے۔ اسی دن رینجرز نے آصف زرداری کے دوست انور مجید کی کمپنی اومنی گروپ پر چھاپہ مارا، 5 ملازمین کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمدگی کا دعویٰ کیا جسے کمپنی نے مسترد کردیا۔بعدازاں اگلے روز پانچوں ملازمین کو رہا کرتے ہوئے انور مجید کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دو مقدمات درج کرلیے گئے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین تاحال رہا نہ ہوسکے، طبیعت خرابی کے سبب انہیں آئی سی یو بھی منتقل کیا گیا اسی طرح ایان علی بھی ملک سے باہر نہیں جاسکیں۔ واضح رہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت سے مفاہمت کے لیے جو مطالبات کیے تھے ان میں ڈاکٹر عاصم حسین اور ایان علی کی رہائی بھی کے معاملات بھی شامل تھے۔

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد فروری 2017 میں آپریشن رد الفساد کا آغاز کیا گیا۔ آپریشن کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ اور ضرب عضب سے ملنے والی کامیابیوں کو جاری رکھنا ہے۔ آپریشن کے تحت ملک بھر میں متعدد چھوٹے بڑے آپریشنز کیے گئے جن میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا۔تقریباً 20 سال کے بعد بالآخر پاکستان میں 2017 میں مردم شماری کا انعقاد ہوا جس کا آغاز مارچ میں ہوا۔ مردم شماری کا عمل 2 ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہا۔مردم شماری کے عبوری نتائج 25 اگست کو مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کیے گئے جن کے مطابق ملک کی آبادی تقریباً 20 کروڑ 80 لاکھ تھی۔نتائج کے مطابق پاکستان میں آبادی کے بڑھنے کی شرح 2.4 فیصد رہی جبکہ مجموعی آبادی کا 48.76 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔نتائج کو تقریباً تمام جماعتوں نے تسلیم کیا ہے تاہم متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی نے کراچی میں مردم شماری کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔سال 2016میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی خفیہ اینجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو اپریل 2017 میں فوجی عدالت کی جانب سے بھانسی کی سزا سنادی گئی۔کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور جاسوسی کرنے کا اعتراف بھی کرلیا تھا۔بھارت نے کلبھوشن کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت سے رجوع کرلیا جس کی ایک سماعت کے دوران جج رونی ابراہم نے کیس کا فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہ دینے کا حکم جاری کیا۔بھارتی نیوی میں حاضر سروس آفیسر کی گرفتاری 16مارچ 2016 کو حساس اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی مدد سے بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں عمل میں آئی تھی جہاں وہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاکستان مخالف تخریبی اور دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔گرفتاری کے چند روز بعد ہی کل بھوشن کا اعترافی بیان جاری کیا گیا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا، اس سے پہلے 2004 اور 2005 میں وہ ’را‘ کے دہشت گرد مقاصد کے حصول کیلئے کراچی کے دورے بھی کرچکا تھا۔
27 دسمبر2007ء کو لیاقت باغ میں انتخابی جلسے میں خودکش حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کا فیصلہ 2017 اگست میں آیا۔فیصلے میں 5 ملزمان کو بری، 2 کو سزا جب کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیداد کی قرقی کا حکم دیا گیا۔بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کی 300 سے زائد سماعتیں ہوئیں جبکہ دوران سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے6 ججز تبدیل ہوئے۔عدالتی فیصلے میں سابق ایس پی خرم شہزاد اور سابق سی پی او سعود عزیز کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ دونوں کو پانچ، پانچ لاکھ جرمانہ جمع کروانے کا بھی حکم دیا گیا۔نومبر حکومت کے لیے سخت امتحان کا مہینہ تھا۔ اس ماہ ایک مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ایک شق میں تبدیلی پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر دھرنا دیا۔حکومت نے فوری طور پر اسے ’دفتری غلطی‘ قرار دیتے ہوئے نئی ترمیم منظور کرلی تھی تاہم مظاہرین نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کیا۔اسلام آباد انتظامیہ نے دھرنا دینے والوں کے خلاف آپریشن بھی کیا تاہم اس کے باوجود دھرنا جاری رہا اور حکومت کو دھرنے کی قیادت کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا جس کے تحت وزیر قانون زاہد حامد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

سال 2017کا سب سے اہم واقع وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ناہلی کا فیصلہ ہے پانامہ لیکس کی بابت جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور پاکستان عوامی مسلم لیگ کی درخواستوں کی سماعت پر سپریم کورٹ نے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا اعلان کیا اور فوری طور پر میاں نواز شریف کو نااہل کرنے سے انکار کردیا اور جے آئی ٹی کو 60یوم میں رپورٹ کی جس پر طویل سماعت کے بعد 28جولائی 2017 کو میاں نواز شریف کو اثاثہ جات چھپانے پر آرٹیکل 62-63کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا جس سے وہ وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے اور انہیں مسلم لیگ ن کی جماعت کے سربراہ کے لیے ممبر قومی اسمبلی بننے کے لیے اہل ہونے کی شرط کا خاتمہ کردیا گیا جس سے میاں نواز شریف دوبارہ صدر مسلم لیگ ن بن گئے مگر اس ترمیم کو بدنیتی پر مبنی اور فرد واحد کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کیے جانے پر عدالت میں چیلنج کیا گیا جس کو منسوخ کر دیا گیا اور میاں نواز شریف جماعتی عہدہ سے بھی فارغ ہوگئے اور اپنے بھائی میاں شہباز شریف کو جماعت کا صدر بنا دیا۔ میاں نواز شریف نے تاحیات نااہل کے فیصلہ کے خلاف نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی جو خارج ہوگئی اور سپریم کورٹ نے ایک دیگر مقدمہ کی سماعت کے دوران میں از خود نوٹس پر آرٹیکل 62کے تحت نااہلی کے معاملہ کا جائزہ لیا اور تاحیات نااہلی کی بابت فیصلہ صادر کیا گیا۔

2018انتخابات کا سال ہونے کی بنا پر سیاسی سرگرمیاں عروج پر رہیں نواز شریف فیملی کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت مقدمات کی کارروائی میڈیا پر چھائی رہی میاں نواز شریف اور مریم نواز وفاق اور پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود عدلیہ، افواج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے رہے سینٹر نہال ہاشمی سمیت میاں نواز شریف کی ٹیم عدلیہ کو دھمکیاں تک دینے پر اتر آئے جس پر نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کو توہین عدالت پر سزا اور نااہلی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے وفاق اور پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومت ہوتے ہوئے بھی ملک بھر میں احتجاجی جلسے جلوس شروع کردیے نااہلی پر میاں نواز شریف بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور آئے اور جگہ جگہ ”مجھے کیوں نکالا“ کا سوال کیا اور عوام کو فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کے خلاف ابھارنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی میاں نواز شریف ان کے بچوں اور داماد کے خلاف فوجداری ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت تھے جن کو ہر ممکن طریقہ سے تاخیری حربوں سے فیصلہ روکنے کی کوشش کی گئی عدلیہ اور فوج کو دباؤ میں لانے کے لیے تمام حربے آزمائے گئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا آئنی وقت پورا کرکے 30مئی 2018کو سبکدوش ہوگئیں اورنگران حکومتیں قائم ہوئیں۔ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک وزیر اعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری نے ذمہ داریاں سنبھالیں اور الیکشن کمشن آف پاکستان نے25جولائی کو عام انتخابات کا اعلان کیا اسی دوران احتساب عدالت نے اپنی تمام کارروائی بعد از طویل سماعت مکمل کرلی تھی جب کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کلثوم کی بیماری کے سلسلہ میں عید سے قبل لندن روانہ ہوگئے اور احتساب عدالت سے کلثوم نواز کی بیماری کے باعث فیصلہ کو ملتوی کرنے کی استدعا کرتے رہے اور حاضری معافی کی درخواستیں دائر کی جاتی رہیں۔ میاں نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے تین ہفتہ کی توسیع طلب کی جو کہ عدالت نے دوہفتے تک منظور کی جس پر وہ وکالت سے علیحدہ ہوگئے بعد ازاں دوبارہ وکالت شروع کردی عدالت نے ملزمان کی عدم موجودگی میں مورخہ 6جولائی 2018کو فیصلہ سناتے ہوئے میاں نوا شریف کو 10سال قید بامشقت اور ایک سال قید محض آٹھ ملین پاؤنڈ جرمانہ، مریم نواز کو 7سال قید بامشقت اور ایک سال قید محض دو ملین پاؤنڈ جرمانہ اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید بامشقت اور ایک سال قید محض کی سزا کے ساتھ ساتھ سزا پوری ہونے کے دن سے آئندہ دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدہ کے لیے نااہلی اور ایون فیلڈ محل ضبط کیئے جانے کا حکم صادر فرمایا اور میاں نواز شریف کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو مقدمہ میں اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے جس کو مسلم لیگ ن کی قیادت نے جانبدارنہ قرار دے کر مسترد کر دیا قانونی لحاظ سے اس سزا کو بہرحال ہائی کورٹ میں اندر 10یوم بذریعہ اپیل چیلنج کیا جانا ضروری تھا بصورت دیگر سزا کنفررم ہو جاتی اور قید جرمانہ کے ساتھ ایون فیلڈ محل ضبط ہوجاتے جس پر میاں نواز شریف کو مریم نواز13جولائی کو پاکستان واپس آگئے اور لاہور ائر پورٹ اترے اس روز مسلم لیگ ن نے ملک بھر میں احتجاج اورائرپورٹ پر کارکنوں کو پہنچنے کی کال دے رکھی تھی لیکن میاں شہباز شریف سمیت کوئی بھی ائر پورٹ نہ پہنچا اور میاں نواز شریف اور مریم کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کر دیاگیا جنہوں نے فیصلہ کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی اور سزا معطلی کے ساتھ توضمانت کی درخواست بھی دائر کی جو کہ اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریق مخالف نیب کو نوٹس جاری کردیے گئے اور ضمانت کا فیصلہ نیب کو سننے کے بعد کرنے کا حکم صادر کیا گیا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات متنازعہ شخصیت کے حامل جج جسٹس شوکت صدیقی نے راولپنڈی بارایسوسی ایشن میں خطاب کرتے ہوئے آئی ایس آئی پر عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے براہ راست الزام عائد کیے اور کہا کہ انہیں نواز شریف کی اپیل کی سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس سے کہہ کر شامل نہ ہونے دیا گیا جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے وضاحتی بیان دیا کہ عدلیہ بالکل آزاد ہے اور اس کے معاملات میں کسی کی بھی کوئی مداخلت نہ ہے جسٹس شوکت صدیقی جج بننے سے قبل جماعت اسلامی کے رکن رہ چکے ہیں اور اس کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑچکے ہیں فیض آباد دھرنا سمیت کئی معاملات میں وہ پہلے بھی متنازعہ ہیں اور ان کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل میں ریفرنس بھی زیرسماعت ہے۔25جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اس نے قومی
اسمبلی میں 116پنجاب اسمبلی میں 123کے پی کے اسمبلی میں 66اور سندھ اسمبلی میں 23نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ مسلم لیگ ن قومی اسمبلی میں 64 پنجاب اسمبلی میں 129کے پی کے میں 5اور پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی 43پنجاب اسمبلی میں 6کے پی کے میں 4اور سندھ اسمبلی میں 76نشستیں حاصل کیں۔عوام نے عمران خان پر 22سال کی جدوجہد کے بعد اعتماد کا اظہار کیا ہے جو حکومت بنانے جارہے ہیں عمران خان نے26جولائی کو جیت کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں اپنے مزاج اور سٹائل سے ہٹ کر ایک مدبر کے طور پر معتدل گفتگو کرکے ملک کو درپیش مسائل اور حکومت میں آکر اپنی پالیسی کا خاکہ پیش کیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو کی سربراہی میں پیپلز پارٹی نے 2013کے انتخابات کے مقابلہ میں اچھی کارکردگی کا مظاہر کیا ہے اور کے پی کے میں تحریک انصاف نے خلاف توقع بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن چند اضلاع کو چھوڑ کر بری طرح ناکام ہوئی ہے۔

مسلم لیگ ن کی ناکامی سے قبل ہی مریم نواز اور نواز شریف دھاندلی کا رونا رونا شروع ہوگئے تھے اور افواج پاکستان کو خلائی مخلوق قرار دے کر اپنا مقابلہ سیاسی جماعتوں کی بجائے جلسوں جلوسوں میں خلائی مخلوق سے قرار دیتے رہے ہیں۔

25جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات کے پولنگ اسٹیشنوں پر شاندار اور پر امن انتظامات ہوئے جسے بین الاقوامی مبصرین یو رپی یونین سمیت سبھی نے شفاف قرار دیا ہے جب کہ مسلم لیگ ن جو کہ خود اسٹیبلشمنٹ کے گملے میں آبیاری کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہی ہے جس کے راہنماؤں میاں نواز شریف سمیت سبھی پر آئی جے آئی بنانے اور رقم وصول کرنے کے الزامات اصغر خان کیس میں ثابت ہوچکے ہیں ان حالات میں اس 14اگست پر بھی ہمیں آزادی کے یوم سوچنا چاہئے کہ کیا ہم آزادہیں؟ بقول نثار ناسک۔

آزادی  ملی  بھی  مجھے  تو  کچھ  ایسے  ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں پنجرہ رکھ سے

اپنا تبصرہ بھیجیں