اسلام کا نظام احتساب

اسلام کا نظام احتساب


پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ حاکم وقت کا احتساب ہو رہا ہے۔ جوڈیشل ایکٹوازم کا نظریہ جو ماضی قریب میں رائج ہو اجسکے تحت گزشتہ دور حکومت میں یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان کو عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت میں سزا پر عہدہ سے علیحدہ ہونا پڑا اور میمو گیٹ اسکینڈل پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی جواب طلبی ہوئی۔ موجودہ دور حکومت میں پانامہ پیپرز پر وزیر اعظم میاں نواز شریف اور انکے خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا اور آرٹیکل 63,62 آئین پاکستان کے تحت وزیر اعظم کو غلط بیانی کا مرتکب ہونے پر نا اہل کردیا گیا اور مالی کرپشن کے الزامات پر احتساب عدالت میں باقاعدہ ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی۔اس سے قبل رواج رہا ہے کہ ہر حکمران اپنے دور اقتدار میں مطلق الضان حیثیت کا حامل رہا۔ عدلیہ سمیت ہر ادارے کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی حیثیت میں چیف ایگزیکٹو کے طور پر من مرضی سے چلایا جاتا رہا اور عدلیہ سے حسب خواہش اور نظریہ ضرورت کی بنیاد پر فیصلے کروائے گئے اور اگر سید سجاد علی شاہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جیسے کسی جج نے مداخلت کی کوشش کی تو اسکی عدالت پر باقاعدہ حملہ بھی کروایا گیا اور انکے ہی ماتحت ججوں بغاوت کرواکر انہیں عہدہ چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا یا افتخار محمدچوہدری کی برطرفی کی طرح کے اقدامات کرکے من مرضی کے فیصلے کروانے کی کوشش سے گریز نہ کیا جاتا۔
پاکستان کی خوش قسمتی سے اب حالات مختلف ہیں اور اداروں میں شخصی آمریت کے خلاف قانون و آئین کے مطابق فیصلوں کا رواج شروع ہو چکا ہے جو یقینا آنے والے وقت میں نیک شگون ثابت ہوگا۔ حکمران اور عوام پر ایک ہی قانون کی ایک ہی طرح عملداری سے ہی معاشرہ میں پائے جانے والے بگاڑ کا خاتمہ ممکن ہے۔ بقول مرتضیٰ برلاس:

مجرم ہو بار سوخ تو قانون کچھ نہیں
کس نے یہ نقش کردیا میزانِ عدل پر

پاکستانی قوانین کسی بھی لحاظ سے کسی ترقی یافتہ ملک سے کم تر نہ ہیں۔ اصل مسئلہ ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہے۔جب عوام کو یقین ہو کہ خلاف ورزی پر معافی نہ ملے گی اور کوئی سفارش نہیں چلے گی تو عوام خود بخود قانون کی پاسداری کرنے لگیں گے جسکی مثال ہے کہ آپ موٹروے پولیس اور ٹریفک پولیس کے زیر کنٹرول سڑکوں پر عوام کا رویہ دیکھ کر بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ اگر قانون پر عملدرآمد کا معاملہ امیر، غریب، طاقتور اور کمزور دیکھ کر ہو تو, بقول مولانا الطاف حسین حالی:

تعزیر جرم عشق ہے بے صرفہ محتسب
بڑھتا ہے اور ذوق گنہ یاں سزا کے بعد

احتساب کے بغیر نظام حکومت کو احسن طریقے سے چلانا کسی بھی طور پر ممکن نہیں۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں مختلف قوانین اس سلسلے میں بنائے جاتے رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان پر عملدرآمد بے لاگ ہونے کی بجائے مخالفین کو پریشان کرنے کی حد تک رہا۔ قانون پر عملدرآمد اگر نیچے سے شروع کرنے کی بجائے حکمرانوں سے کیا جائے تو تمام معاملات خود بخود درست ہو جاتے ہیں۔ بقول جلیل عالی۔

نکلے گا کوئی رستہ تدبیر بدلنے سے
ملتی نہیں آزادی زنجیر بدلنے سے
اس شہر کی سیرت میں کچھ فرق نہیں پڑتا
بس جرم بدلتے ہیں تعزیر بدلنے سے

اسلامی نظام میں احتساب کا ایک واضح طریقہ دیا گیا ہے۔قر آن و حدیث میں حکمرانوں سے لیکر عوام الناس کے احتساب تک مکمل رہنمائی فراہم کی گئی ہے جو ہمارے لئے روشن مثال ہے۔اسلامی نظام میں حضرت عمر فاروقؓ جیسے حکمران سے بھی ایک عام شخص اجتماع میں بلا خوف یہ سوال کر سکتا ہے کہ مال غنیمت کی ایک چادر سے جب ایک پستہ قد کا کرتا نہیں بنتا تو آپ کا کرتا کیسے بنا جسکا جواب دینے کیلئے وہ اپنے بیٹے کو کہتے ہیں۔

قرآن و سنت میں احتساب کا تصور

اسلامی شریعت میں احتساب ایسی اصطلاح ہے جس میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے حکماً روکنے کے معنی شامل ہیں۔ اس کام کو امر بالمعروف و نہی المنکر کہا جاتا ہے جس کے معنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہیں۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ ہر مسلمان کے ذمہ ہے۔ بنیادی طور پر ہر مسلمان اس کا مکلف ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
ترجمہ: ”یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو نماز قائم کریں گے زکوۃدیں گے نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے“۔

قرآن پاک ہی میں ایک دوسری جگی ارشاد ہے:
ترجمہ: ”اور تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“۔
ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر ایک عمومی تصور ہے جو مختلف شکلوں میں ہر مسلمان پر کسی نہ کسی حد تک ہر حال میں فرض ہے۔ جیساکہ حدیث سے بھی اسکی تائید ہوتی ہے، رسول ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
ترجمہ: ”تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے برا کہے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین حصہ ہے“۔
یہ درست ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہر مسلمان کا فرض ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نیکی کا حکم دینے کی مختلف صورتیں ہیں۔ اسی طرح برائی بھی اپنے حجم کے اعتبار سے مختلف حالتیں اختیار کرتی رہتی ہے جو کبھی تو محض فرد کے روکنے سے ختم ہو جاتی ہے اور کبھی اسکے خاتمے کیلئے پوری جماعت اور اجتماعی سوچ درکار ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ نیکیاں اور برائیاں جنکا حکم دینا، روکنا یا انکے بارے میں فیصلہ کرنا زد کی استطاعت یا دسترس سے باہر ہو ان کے بارے میں اسلامی ریاست کے اندر ایک باقاعدہ نظام موجود ہے جسے اسلام کا نظام احتساب یا ”حسبہ“ کہتے ہیں۔ احتساب کے کام پر مامور شخص کو اصطلاحی صفوں میں معتسب کہتے ہیں وہ سرکاری نمائندہ ہوتا ہے اور سرکار اسکے فرائض کی انجام دہی کیلئے اسکی پشت پر ہوتی ہے۔

ادارہ احتساب کا ارتقا

مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد جملہ اختیارات کا ارتقا رسول اللہ کی ذات ہی میں تھا۔ وہ معاشرے کے سپہ سالار بھی تھے، اخلاقیات کا درس دینے والے بھی تھے اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنے پر سرزنش کرنے والے اور موقع کے مطابق سزا دینے والے بھی۔ ریاست کا نظام عدل ہو یا احتساب کا نظام ہر ادارہ تمام معاشرتی اصولوں اور قوانین کی جانچ پرکھ اور مزید قانون سازی کیلئے آپ ہی کا محتاج تھا۔ سزاؤں کے ضمن میں آپ کے دور میں معمولی سرزنش، مارپیٹ اور کوڑے مارنے کی سزا سے لیکر سنگسار کرنے کی سزا تک ثابت ہے۔ حضورﷺ کے دور میں ذیادہ تر کام اصلاح اور خود احتسابی سے چل جاتا تھا مگر بعد کے ادوار میں جس طرح دیگر شعبہ جات میں تبدیلیاں آئیں اسی طرح اس شعبہ میں بھی تبدیلی وقت کے ساتھ ساتھ آتی گئی۔

عہد صدیقی میں احتساب کا نظام

حضرت ابو بکر صدیقی ؓ بھی آپ ﷺ کی طرح بازاروں میں گشت کرتے اور موقع پر اصلاح احوال کرتے۔ اس حد تک تو رسول اللہ ﷺ کے نظام احتساب کو انہوں نے برقرار رکھا۔ ایک تبدیلی جو آپ ﷺ کے دور میں آئی وہ یہ تھی کہ منصب قضاء حضرت عمرؓ کے حوالے کردیا گیا اس طرح اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ قاضی کا عہدہ خلیفہ کی ذات سے الگ قرار پایا ورنہ اس کے علاوہ حضرت ابو بکرؓ اپنے دور خلافت میں ذیادہ سے ذیادہ اسی نظام جو قائم رکھنے کیلئے کوشاں رہے جو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں رائج کیا تھا۔
اس دور حکومت میں احتساب کے نظام میں نہ صرف وسعت بلکہ کوئی بڑی تبدیلی بھی عمل میں نہ آئی۔ اسکی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپکو حکومت چلانے کیلئے بہت مختصر مدت ملی اور یہ مدت بھی ہنگامی حالات اور واقعات کے سدباب میں گزر گئی۔ آپ ریاست میں رکھنے والے بنیادی نوعیت کے فتنوں کی بنچ کنی میں لگے رہے یوں تعمیر و ترقی کیلئے آپ کو سوچنے اور عمل کرنے کیلئے ذیادہ وقت نہ مل سکا۔

عہد فاروقی میں احتساب کا نظام

حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں نظام احتساب کو بہت وسعت تھی۔ آپ رعایا کے عام اخلاق کا بطور خاص خیال رکھتے تھے کسی ایسے فعل کی اجازت نہیں دیتے تھے جس سے اسلامی تعلیمات کی نفی ہورہی ہوتی یا معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا۔ آپ نے ایک دفعہ مدینہ کے ایک نوجوان کو اس وجہ سے شہر سے باہر نکال دیا کہ اس کے حسن کے چرچے شہر کی بعض نوجوان لڑکیوں کی زبانوں پر عام ہونے لگے تھے اور خدشہ تھا کہ اس کے مضر اثرات دوسروں تک بھی جا پہنچیں اور یوں عام معاشرتی اخلاقی زوال پذیر ہوجائے۔ ایک اور موقعہ پر دودھ میں پانی ملانے پر ایک شخص کا سارا دودھ ضائع کروادیا۔ افراد کی اصلاح کے ضمن میں ہمیں ان کے دور میں بہت سے واقعات ملتے ہیں ان میں سے صرف دو نقل کئے جاتے ہیں۔ ایک موقع پر آپ نے دیکھا کہ ایک شخص کی جھولی آٹے سے بھری ہے اسکے باوجود وہ لوگوں سے بھیک مانگ رہا ہے تو آپ نے اس سے سارا آٹا چھین کر اونٹوں کے آگے ڈال دیا اور اس شخص سے کہا کہ اب بیشک مانگنا شروع کرو۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ضروریات ادنیٰ حد تک بھی موجود ہوں تو منگنی جائز نہیں۔

ایک دفعہ عوام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں حکام کو اسلئے مامور نہیں کرتا کہ وہ لوگوں کو ماریں یا مال چھین لیں جس کسی نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا تواس افسر سے مظلوم کا بدلہ لیکر رہوں گا۔ اس پر عمر بن العاس نے سوال کیا کہ آپ حکام سے بھی قصاص لیں گے؟حضرت عمرؓ نے جواب میں کہا ہاں میں ضرور قصاص لوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے آپ سے قصاص دلواتے دیکھا ہے۔ آپؐ اعلیٰ سرکاری حکام اور حکومت کے دیگر ملازمین کی سخت نگرانی کرتے اورانکے جملہ معاملات پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ احتساب سے قبل ان کے بارے میں اپنے ذرائع سے خفیہ معلومات حاصل کرتے، کسی شخص کو کلیدی عہدے پر مقرر کرنے سے پہلے اسکے اثاثوں کی مکمل تفصیل احاطہ تحریر میں لے آتے۔ عہدے پر تقرری کے بعد ان اثاثوں کی جانچ پڑتال اور انکا آپس میں موازنہ کرتے رہتے۔ اگر یہ شک گزرتا کہ اس نے مال سرکاری حیثیت سے جمع کیا ہے تو سخت گرفت کرتے۔

بعد کے ادوار میں محتسب کی حیثیت

بعد کے ادوار میں جب اسلامی ریاست کے شعبوں میں ذیادہ باقاعدگی سے دفتری نظام چلنا شروع ہوا تو اس نظام میں بھی مزید وسعت پیدا ہوئی۔ احتساب کا فریضہ انجام دینے والوں کی درجہ بندی ہوئی، قاضی کی کئی ذمہ داریاں محتسب کے حوالے کردی گئیں۔ اسی طرح ابتداء میں قاضی محتسب اور شرطہ کے افسر اعلیٰ کا الگ الگ تصور نہ تھا یہ تصور بعد میں داخل ہوا جب ان عہدے داروں کے کام کی نوعیت واضح شکل اختیار کر گئی تو انکے فرائض کی نوعیت بھی بدل گئی۔ قاضی صرف اسی صورت میں فریقین کے درمیان فیصلہ کرتا تھا جب اسکے پاس فریادی شکایت لے کر آتا۔ محتسب کیلئے ایسی کوئی پابندی نہ تھی، وہ کسی فریادی کی شکایات کے بغیر بھی کاروائی کرنے کا مجاز تھا۔ محتسب کے ذمہ عام طور پر مندرجہ ذیل امور رہے ہیں۔
1۔ ناپ تول میں کمی بیشی اور دیگر معاملات
2۔ خریدو فروخت میں دھوکہ ملاوٹ سے متعلق معاملات
3۔ ایسے معاملات جن میں کوئی شخص استطاعت رکھنے کے باوجود اپنے ذمہ واجب الادا قرض لوٹانے میں پس و پیش کررہا ہو۔

عدلیہ اور احتساب

اسلامی تاریخ میں محکمہ قضاء ارتقائی عمل سے گزرا ہے۔ رسول اللہ کے دور میں قضاء کی جو ہیت تھی بعد کے ادوار میں تبدیل ہو کر اس نے الگ محکمہ کی شکل اختیار کر لی لیکن قضاء کے بارے میں بنیادی تصورات وہی رہے جو شروع میں تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ قاضی اور محکمہ قضاء اسلامی دنیا سے باہر بھی کسی دوسرے نام سے تقریباً انہی فرائض کے ساتھ عملی شکل میں موجود تھا۔ احتساب کے ادارے کو مسلمانوں نے بعد کے ادوار میں قرآن و سنت کے احکام سے متعارف کرایا۔ مسلمانوں سے قبل دوسری تہذیبوں نے قانون کے نفاذ کیلئے مختلف طریقے تو وضع کر رکھے تھے لیکن احتساب جیسا تصور کسی تہذیب کے پاس نہ تھا۔

احتساب اور قضاء کا باہمی تعلق

قضاء کا نظام احتساب سے الگ ہے باوجود بلکہ دونوں کے فرائض و اختیارات کواکثر و بیشتر مقامات پر مشترک بھی کیا جا سکتا ہے کہ احتساب کا محکمہ قضاء کے ماتحت ہو لیکن یہ بات ریاست کے انتظام سے متعلق عقلی دلیل ہے، کوئی شرعی اصول نہیں ہے جس کیلئے باقاعدہ احکام موجود ہوں۔
1۔ نظری اعتبار سے ہمیں قضاء اور احتساب کے نظام میں کئی مقامات پر گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ ان میں سے ایک تعلق یہ ہے کہ دونوں کے فرائض میں عوام کے حقوق شامل ہیں۔ ان کے فرائض کے استعمال کی نوعیت مختلف ہے۔
2۔ محکمہ قضاء اور محکمہ احتساب دونوں کو پولیس کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ محتسب اپنی صوابدید پر جب چاہے پولیس کو حکم دیکر مجرم کی سرکوبی یا گرفتاری کیلئے کہہ سکتا ہے۔ قاضی کیلئے پولیس کا یہ استعمال قدر محدود ہے۔ وہ پولیس کا تعاون وہیں حاصل کرتا ہے جہاں فریقین میں کوئی ایک عدم تعاون کی راہ اختیار کرتے ہوئے عدالتی عمل میں رکاوٹ پیدا کررہا ہو۔
3۔ محکمہ احتساب کو مکمل عدالتی اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔ بعض احکامات میں مجرم کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے لانا بھی محتسب کے ذمہ ہے یہاں پر وہ عدالت کا معاون ہوتا ہے۔
4۔ محکمہ احتساب بعض اعتبار سے انتطامی اختیارات بھی رکھتا ہے جنکے باعث بیشتر جرائم سرکاری کاروائی کے بعد ختم کئے جا سکتے ہیں اسلئے محتسب کی ذات سے رعب ہونا فطری عمل ہے۔ ممکن ہے کہ امن و امان سے تعلق رکھنے والے کئی عدالتی فیصلے کرنے کا اختیار محتسب کے پاس ہو، قاضی کیلئے ایسے فیصلے کرنا قرین مصلحت نہ ہو۔
5۔ قضاء اور احتساب کے نظام کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں میں گہرا ربط اور تعلق ہے۔ دونوں ایک ہی مقصد کے حصول کیلئے نظام سلطنت کے معاون ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں قاضی کے اختیارات محتسب سے ذیادہ ہوتے ہیں کہیں محتسب قاضی کی معاونت کرتا نظر آتا ہے۔ کسی معاملہ میں قاضی مداخلت نہیں کر سکتا جبکہ محتسب خود آگے بڑھ کر فریقین میں عدل قائم کرتا ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ قاضی کا رتبہ، وقار، بردباری کی علامت ہوتا ہے اور محتسب ڈر خوف اور رعب کی چلتی پھرتی تصویر ہوتا ہے۔

نظام قضاء اور احتساب میں فرق

محتسب کو قاضی کی طرح یہ عدالتی اختیار تو حاصل ہوتا ہے کہ وہ مدعا علیہ کو طلب کرے مگر اسے یہ اختیار نہیں کہ کسی ایسے معاملہ کی سماعت کرے جہاں مدعا علیہ اپنے خلاف لگائے گئے الزام سے انکار کرے اور اسکے خلاف کوئی ایسا ثبوت بھی نہ ہو جو اسکے جرم کی قطعیت ثابت کردے۔ایسی صورت میں قاضی کی عدالت میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں عام عدالتی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ محتسب سر سری سماعت کے بعد ممعاملہ نمٹا دیتا ہے۔اسلامی نظام عدل میں قاضی کسی دعویٰ کے بغیر از خود فیصلے بھی نہیں کر سکتا وہ از خود امر بالمعروف دینی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا، وہ اپنی ذاتی حیثیت میں ایک عام مسلمان کی طرح ایسا کرنے کا مجاز ہے مگر اس کے سرکاری فرائض میں یہ بات شامل نہیں ہے۔ اسلام کا نظام عدل تقاضا کرتا ہے کہ قاضی کے رویے سے وقاراور برد باری کا اظہار ہوتاکہ لوگوں کء دلوں میں قاضی کے لئے اضرام جذبات پیدا ہوں۔ نظام احتساب اس بات کا متقاضی ہے کہ،حتسب کے ذریعے سے رعب ظاہر ہو تاکہ عوام جرم کرنے سے باز رہیں یہی وجہ ہے کہ محتسب اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اور اس کے اظہار کے ذرائع استعمال کر سکتا ہے وہ از خود بھی امر بالمعروف دینی المنکر کا فریضہ ادا کر سکتا ہے۔

محتسب اپنے ذاتی علم کی بناء پر بھی فیصلہ کر سکتا ہے لیکن قاضی اپنے ذاتی علم کی بناء پر فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قاضی کے فرائض میں ان دعوؤں کا سننا شامل ہے جہاں دو فریق ہوں اور وہ اپنے حق میں دلائل اور شہادتیں پیش کرتے ہوں مگر محتسب کے فرائض ایسے ہیں جہاں عام طور پر اسے سرکاری نمائندہ بن کر فوری فیصلہ کرکے بعض حالتوں میں از خود نافذ بھی کرنا ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ کسی زیر بحث معاملہ میں دو فریق ہوں جیسے محتسب بازار کے کسی دکاندار کے پاس کم وزن کے پیمانے پائے تو موقع پر سزا دینے کا مجاز ہے۔

اسلامی ریاست میں محتسب کی ذمہ داریاں

نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہر مسلمان کا فرض ہے مگر بعض ایسے معاملات میں جو اسلامی ریاست کے ذمہ ہیں یہ فرض ادا کرنا دیگر بہت سی وجوہات کی بناء پر اکیلے آدمی کیلئے ممکن نہیں رہتا اس لئے اس حد تک عام مسلمان کہ ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ کسی بازار میں ملاوٹ شدہ اشیاء کی کھیپ کی صورت میں اچانک جائیں تو عام آدمی کیلئے ممکن نہیں ہے کہ وہ مجرموں کا کھوج لگاتا پھرے کیونکہ اس کے وسائل محدود ہوتے ہیں ایسی صورت میں یہ محتسب کا کام ہے کہ وہ اپنے ذرائع سے مجرموں کا کھوج لگائے اور انہیں قرار واقعی سزا دے۔ اس قسم کی اجتماعی برائی کسی ادارے ہی کیلئے ممکن ہے اکیلا آدمی اسکا سدباب نہیں کر سکتا۔

نظری اعتبار سے محتسب کی دو بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔
1۔ نیکی کا حکم دینا
1۔ کہ وہ لوگوں کو حقوق اللہ ادا کرنے کی تلقین کرے۔
الف۔ لوگوں کو اجتماعی امور میں نیکی کا حکم دینا مثلاً کسی بستی میں نماز کا اہتمام نہ ہوتو محتسب بستی کے لوگوں کو توجہ دلائے اور نماز باجماعت کیلئے وسائل مہیا کرکے اس کا اہتمام کرے۔
ب۔ لوگوں کو انفرادی امور میں نیکی کا حکم دینا جیسے کوئی شخص نماز با جماعت میں تاخیر یا غیر حاضر ی کو عادت بنالے تو محتسب اسے توجہ دلا سکتا ہے، مناسب سرزنش کر سکتا ہے لیکن ان سب باتوں کا انحصار امر واقعہ پر ہے۔
2۔ وہ لوگوں کو حقوق العباد ادا کرنے کی تلقین کرے۔ حقوق العباد کی بھی مزید دو قسمیں ہیں۔
الف۔ لوگوں کو اجتماعی حقوق کا تحفظ جیسے کسی بستی میں پانی کے کسی بند کے ٹوٹنے کا اندیشہ ہو اور اس سے لوگوں کے جان ومال کا نقصان ہورہا ہو تو محتسب بستی کے لوگوں کو جبراً بند کی مرمت پر لگا سکتا ہے تاکہ نقصان نہ ہو۔
ب۔ کسی خاص فرد کے حقوق کا تحفظ جیسے کوئی شخص اپنے نوکر سے غیر انسانی سلوک کرتا ہے تو محتسب اسے روک سکتا ہے۔
3۔ امر بالمعروف کی تیسری قسم یہ ہے کہ کسی معاملہ کا ایک پہلو تو حقوق اللہ کا احاطہ کرتا ہو اور دوسرا پہلو حقوق العباد کو ظاہر کررہا ہو۔ لڑکیوں کے سرپرست بلا وجہ انکی شادیاں نہ کررہے ہوں حالانکہ لڑکیاں شادی کرنا چاہتی ہوں تو محتسب لڑکیوں کے سرپرستوں کو انکی شادیوں کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

2۔ برائی سے روکنا

برائی سے روکنا نہی عن المنکر کی بھی تین اقسام ہیں جو امر بالمعروف کے ضمن میں آتی ہیں۔
۱۔ رمضان المبارک میں بغیر کسی عذر شرعی کے سرعام کھانا پینا۔ آجکل پابندیاں تو موجود ہیں لیکن احتساب کا نظام مؤثر نہ ہے۔
۲۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنا۔ اسکے تدارک کیلئے قانون اور نظام تو موجود ہے لیکن احتساب کا عمل غیر مؤثر ہے۔
۳۔ کاروباری پیمانوں میں کمی کرنا۔ اسکے لئے بھی قانون اور نظام موجود ہے جسکی گرفت برائی پر بہت کم ہے۔
۴۔ بغیر اہلیت کے لوگوں کا علاج کرنا جیسے آجکل رنگا رنگ طریق علاج کے بارے میں دیواروں پر سرعام لکھا ہوتا ہے اور اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات شائع ہوتے ہیں جن پر کسی ادارے کی گرفت نہیں۔
۵۔ طبیبوں کو زہر فروخت کرنے سے روکنا۔ موجودہ دور میں بغیر طبی نسخے کے دوائیں بیچنے والے کیمسٹ بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔
۶۔ کھانے پینے کی اشیاء کی صفائی کا خیال رکھوانا جسکا شاید ہی کسی سطح پر خیال رکھا جاتا ہو۔
۷۔ غیر مرد اور عورت کا علیحدگی میں ملنا جیسے آجکل پارکوں اور ریسٹورانوں اور تفریح گاہوں میں ہوتا ہے۔ درحقیقت اسلامی معاشرت کے بغیر قانونی تصورات کا فہم حاصل کرنا ناممکن ہے۔
۸۔ مسافر گاڑیوں میں منظور شدہ تعداد سے زائد مسافر بٹھانا۔
۹۔ ذخیرہ اندوزی کرنا۔

محتسب صرف ان فکرات کے خلاف قدم اٹھا سکتا ہے جو کھلے عام ہو رہے ہوں یا کوئی شخص اسکے پاس شکایت لیکر آئے۔ وہ فکرات جو گھر کی چار دیواری کے اندر کئے جائیں تو وہ محتسب کے اختیار سے باہر ہیں۔

پاکستان میں احتسابی عمل کی صورتحال

پاکستان کا قیام اسلامی نظریہ کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا۔ قیام پاکستان کے محرکات میں سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کیلئے ایک ایسی علیحدہ ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں مسلمان اپنے اطوار اور اسلامی نظام معاشرت کے مطابق زندگی گزار سکیں اور وہاں مکمل اسلامی نظام رائج کیا جا سکے۔مگر بد قسمتی سے قیام پاکستان کے تھوڑے عرصہ بعد ہی پاکستان مخلص قیادت کے بحران کا بری طرح شکار ہو کر رہ گیا اور بر سر اقتدار آنے والے حکمرانوں نے اصل مقاصد کو پس پشت ڈال کر محض اپنی سیاست چمکانے اور اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے کوششیں شروع کردیں۔اس سب کے باوجود مختلف مواقع پر اسلام کے نفاذ کی ملکی سطح پر کچھ نہ کچھ کوششیں ہوئیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہمارا نظام مکمل طور پر اسلامی تو نہ ہے لیکن کچھ قوانین اسلام سے مطابقت بھی رکھتے ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال مایوس کن ہے، انتظامیہ کی گرفت بہت ذیادہ ڈھیلی ہو چکی ہے اور قوانین بنانے اور نافذ کرنے کے ذمہ دار خود کو قانون سے بالا تر تصور کرنے لگتے ہیں جو اصل خرابی کی جڑ ہیں۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد سابق حکمرانوں کے جو کارنامے منظر عام پر آرہے ہیں اگر اس وقت ان معاملات کا صحیح طور پر احتساب کر لیا جائے تو کافی قرضے بھی اتارے جا سکتے ہیں اور سیاست کی گندگی بھی صاف ہو سکتی ہے۔ حجرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے ان پر قاضی کی عدالت میں دعویٰ کیا۔ قاضی نے آپ ؓ کو طلب کرلیا، آپ عدالت میں تشریف لے گئے تو قاضی نے تعظیم کی اور خصوصی نشست فراہم کی تو آپ نے فرمایا کہ سب سے پہلی نا انصافی تو تم نے یہ کی ہے لیکن ہمارے ہاں ہر شخص اپنے لئے مراعات کا طالب ہے۔پاکستان میں اس وقت رائج قوانین مکمل اسلامی تو نہیں مگر پھر بھی بہت بہتر ہیں۔ اصل مسئلہ ان قوانین پر عملدرآمد کا ہے۔ انہی قوانین پر اگر مؤثر طریقہ سے عملدرآمد کروایا جائے اور اس سلسلہ میں کسی امیر غریب حاکم یا ماتحت کا فرق نہ رکھا جائے تو کافی حد تک بہتری ہو سکتی ہے۔جب ایک با اختیار آدمی کو سزا ملے تو ماتحت اس سے عبرت پکڑتے ہوئے خود ہی ایسا کرنے سے باز رہتا ہے اور جب کوئی با اختیار جرم کرنے کے باوجود باعزت ہی رہے تو دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
احتسابی ادارہ تمام محکموں کیلئے الگ الگ شعبہ جات قائم کرے اور اس میں متعلقہ شعبہ کے ماہرین شامل کئے جائیں اور احتساب کو ضلع کی سطح پر مشتمل اداروں کی حیثیت دے دی جائے جو تمام محکموں کی مانیٹرنگ کرے اور اعلیٰ حکام کو رپورٹ پیش کرے۔ قوانین پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد کے ذریعے کافی حد تک فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

لاؤڈ اسپیکر کا غلط استعمال اور قانونی چارہ جوئی

قانون اور بچے بنانا بہت آسان جبکہ قانون پر عملدرآمد اور بچوں کی تعلیم و تربیت بہت مشکل کام ہے۔پاکستان ان دونوں معاملات میں انتہائی بد قسمت ملک ہے۔پاکستان میں تعلیم کی شرح انتہائی شرمناک ہے اور تعلیم کو شخصیت کے نکھار کی بجائے محض ملازمت کے حصول کا ذریعہ خیال کیا جاتا ہے جو بیروزگاری کی ایک اہم وجہ ہے۔معمولی تعلیم کا حامل شخص بھی اچھی ملازمت کا خواہاں ہے اورعملی شعبہ جات جیسے موٹر مکینک، درزی، حجام، سنار، لوہار اور سرجیکل آلات اور کھیلوں کے سامان کی تیاری کے شعبہ جات جو ہماری روز مرہ زندگی میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ان کو ان پڑھ افراد کے حوالہ کردیا گیا ہے جو در حقیقت خصوصی تعلیم کے بعد تربیت کے متقاضی ہیں۔

پاکستان میں رائج الوقت قوانین ہر لحاظ سے بہترین ہیں مگر ان قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال افسوسناک ہے۔ ٹریفک قوانین سے لیکر کرپشن کی روک تھام تک ہر شعبہ زندگی سے متعلق قوانین خوبصورت کتب اور لائبریری کی شیلف کی حد تک ہیں۔ ایک وقت تھا جب لاؤڈ اسپیکر کا پاکستان میں رواج ہوا تو شروع شروع میں مذہبی حلقوں نے اسکی بھر پور مخالفت کی اور اس کے استعمال کے خلاف فتوے بھی دیئے گئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاؤڈ اسپیکر مذہبی رہنماؤں اور مذہبی تقریبات کی لازمی ضرورت بن گیا اور مساجد میں مقابلہ کی فضاسے اسپیکر نصب کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی اور ضرورت سے ہٹ کر ہر مسجد میں متعدد اسپیکر خاصی اونچائی پر نصب کئے جانے لگے کہ مساجد کے قریب رہائش پذیر افراد کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی۔ اسپیکر کا استعمال کب شروع ہوگا اور کب ختم ہوگا اسکے لئے رات دن صبح دوپہر کی کوئی قید نہ رہی تو حکومت کی طرف سے اس معاملہ کو زیر غور لا کر مساجد میں نصب زائد اسپیکر اتارے گئے اور اذان و جمعہ کے خطبہ کے علاوہ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی۔ اس معاملہ میں عملدرآمد کی صورتحال کافی بہتر رہی ہے اور عوام کو انتظامیہ کی توجہ سے کافی ریلیف ملا ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر کے معاملہ میں بھی ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہماری پولیس اور انتظامیہ نے اسے محض مساجد کی حد تک قانون سمجھ رکھا ہے اور روایتی پولیس کارکردگی کے طور پر کبھی کبھار کسی مسجد کا کوئی کارندہ پکڑ کر اس پر مقدمہ درج کردیا جاتا ہے۔ ہماری انتظامیہ اور پولیس کو شاید یہ علم ہی نہیں کہ اس ایکٹ کا اطلاق ہر قسم کے ساؤنڈ سسٹم کے استعمال پر ہوتا ہے۔ پنجاب ساؤنڈ سسٹمز (ضابطہ)ایکٹ 2015 کی دفعہ 6 کے تحت خلاف ورزی کے مرتکب شخص کو 6 ماہ تک قید اور 25 ہزار سے لیکر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دجا سکتی ہے جسکا اطلاق مساجد میں خلاف ورزی پر کیا جاتا ہے۔ میرے علم میں ایسا کوئی معاملہ آج تک نہیں آیا کہ کسی دیگر کے خلاف ایسی کاروائی کی گئی ہو۔

آجکل گاڑیوں میں اونچی آواز میں بیہودہ گانے اور کان پھاڑنے کی حد تک آواز میں میوزک، گلی محلوں میں سبزی، فورٹ، قلفی، پاپڑ اور چپس بیچنے اور اسپیکر کا استعمال کرکے بھیک مانگنے والے ہر چند لمحوں کے بعد آپ کو ذہنی کوفت پہنچانے حاضر ہوں گے لیکن پولیس کی گشت کرتی گاڑی اورموٹر سائیکل اسکواڈ ان پر توجہ دینا گوارا بھی نہیں کرتے۔مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو تو کسی حد تک کنٹرول کر لیا گیا ہے لیکن ان چلتے پھرتے لاؤڈ اسپیکر کو کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کی طرف انتظامیہ کا توجہ نہ دینا حیران کن ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے شاید رائج الوقت قانون پڑھا نہیں یا سمجھا نہیں۔ مساجد کے اسپیکر کے ساتھ ساتھ گلی کوچوں میں چلتے پھرتے لاؤڈ اسپیکر وں کو بھی بند کروایا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ انتطامیہ، پولیس اور عوام الناس کی آگاہی کیلئے رائج الوقت ساؤنڈ سسٹمز (ضابطہ)ایکٹ2015 پیش ہے تاکہ عوام الناس آگاہ ہونے کے بعد خلاف ورزی کے مرتکب اشخاص کے خلاف کاروائی کے لئے ذمہ داران کو مجبور کر سکیں۔ یہ ایکٹ6 مارچ 2015 کو پنجاب اسمبلی نے منظور کیا جسے گورنر پنجاب نے 17 مارچ 2015 کو منظور کیا اور 18 مارچ2015 کو پنجاب گزٹ میں شائع کیا گیااور پنجاب بھر میں نافذ ہو ا۔

پنجاب ساؤنڈ سسٹمز(ضابطہ)ایکٹ،2015
(XVIII بابت2015)

پنجاب میں ساؤنڈ سسٹمز کے استعمال کو باضابطہ بنانے اور کنٹرول کرنے کے لیے ایکٹ۔

جب کہ یہ ضروری ہے کہ عوام کے لئے تکلیف دہ اور ممکنہ طور پر عوامی بدنظمی کا باعث متنازعہ نوعیت کے کلمات کی باآواز بلند ادائیگی کے سّدباب کے مقاصد کے لیے؛ماحول،امنِ عامہ،شائستگی کی غرض سے اور دہشت گردی کی ترغیب دینے یا جُرم کی روک تھام اورارتکاب منسلکہ معاملات سے نمٹنے کے لئے صوبہ میں مخصوص ساؤنڈ سسٹمز کے استعمال کو با ضابطہ بنایا جائے،کنٹرول کیا جائے اور اس کی ممانعت کی جائے۔ اسے یوں وضع کیا جاتا ہے:

1۔ مختصر عنوان،دائرہِ کار اور آغازِ نفاذ۔
اس ایکٹ کا حوالہ بطور پنجاب ساؤنڈ سسٹمز(ضابطہ)ایکٹ، 2015 دیا جائے گا۔
اس کادائرہِ کارپوراپنجا ب ہو گا۔
اس کا نفاذ فی الفور ہو گا۔

2۔ تعریفات۔ اس ایکٹ میں۔
(اے) ”ضابطہ” سے مراد مجموعہ ضابطہ فوجداری،1898 (Vبا بت1898)ہے۔
(بی) ”حکومت ”سے مراد حکومتِ پنجاب ہے۔
(سی) ” عبادت گاہ ”سے مراد مسجد،امام بارگاہ، چرچ،مندر یا کسی فرقے یا مذہب کی کوئی دیگر عبادت گاہ ہے۔
(ڈی) مجوّزہ سے مراد اس ایکٹ کے تحت وضع کردہ قواعد کے ذریعے تجویز کردہ ہے۔
(ای) ”عوامی مقام ”سے مراد کوئی شارعِ عام،عوامی گزرگاہ، عوامی پارک یا کھیل کا میدان یا کوئی دیگر مقام جہاں عوام یا عوامی طبقے کو دعوت پر یا بغیر دعوت کے رسائی حاصل ہو۔
(ایف) ”ساؤنڈ سسٹم ”سے مراد لاؤڈ سپیکر،ساؤنڈ ایمپلی فائر یا ایساکوئی اور مجوّزہ ساز و سامان ہے اور
(جی) ”قرب و جوار” سے مراد وہ علاقہ یا جگہ ہے جو اس جگہ کے دس گز کے اندر ہو جہاں ساؤنڈ سسٹم رکھا گیا ہو۔

3۔ ساؤنڈ سسٹم کے استعمال کی ممانعت۔
(۱) اس ایکٹ کے تحت کسی شخص کیلئے یہ غیر قانونی ہوگا کہ وہ ایسے ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کرے یا استعمال میں معاونت کرے، ایسا ساؤنڈ سسٹم استعمال کرنے کا موقع یا اجازت دے جس سے بہت زیادہ، غیر ضروری یا غیر معمولی شور یا ایسی آواز پیدا ہو جو قریب و جوار میں موجود اشخاص کے آرام، سکون، صحت، چین یا تحفظ کو جھنجھلاہٹ، پریشانی، تکلیف یا خطرے سے دوچار کرے۔
(2) باوجود اس کے کہ اس ایکٹ یا کسی دیگر قانون میں کچھ بھی درج ہو، کوئی شخص ایسا ساؤنڈ سسٹم استعمال نہیں کرے گا جو مجوزہ تخصیصات کی خلاف ورزی کرے۔
(3) حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے ساؤنڈ سسٹم کی تخصیصات کا تعین کرے گی۔

4۔ ساؤنڈ سسٹم کا ضابطہ۔
(۱) ذیلی سیکشن 2 کے تحت کوئی شخص نہ (ایسا)ساؤنڈ سسٹم چلائے گا، استعمال کرے گا یا اسے چلائے جانے یا استعمال کئے جانے کا باعث نہیں ہوگا (جو):
(اے) کسی عوامی مقام پر، اس طریقہ کار کے مطابق جو قرب و جوار میں لوگوں کیلئے جھنجھلاہٹ یا تکلیف کا باعث ہو یا باعث بن سکتا ہو۔
(بی) ایسی جگہ جس کے قرب و جوار میں:۔
(i) عبادت کے اوقات میں عبادت گاہ؛
(ii) ان ڈور مریضوں کیلئے سہولیات فراہم کرنے والے ہسپتال میں دن یا رات کو کسی بھی وقت؛
(iii) اتنی آواز میں یا اس طریقہ کار کے مطابق ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کرنا، جس سے کسی تعلیمی ادارے، عدالت، ان ڈورمریضوں کیلئے سہولیات مہیا نہ کرنے والے ہسپتال یا سرکاری ادارے، دفتر یا کسی جائے کار کے معمول کے اوقات کار کے دوران، جس سے اس جائے کار کی کارگزاری یا افادیت میں خلل پیدا ہو۔
(iv) گھر یا انسانی رہائش کیلئے استعمال ہونے والی کسی دیگر جگہ پر کسی بھی وقت جو مجوزہ ہو، یا (سی)کسی عبادت گاہ میں اس انداز سے یا اتنی آواز سے کہ ساؤنڈ سسٹم سے نکلنے والی آواز اس عبادت گاہ کی حدود سے باہر دس گز سے زائد فاصلے پر سنی جا سکتی ہو، یا (ڈی)کسی عوامی یا نجی جگہ پر فرقہ وارانہ یا دیگر متنازعہ نوعیت کی باتوں کو ہوا دینے کے لئے جو فساد عامہ کا باعث بن سکتی ہوں، اگر ایسی باتیں ان مقامات سے باہر یا ان کی حدود یا ملحقہ علاقے سے پرے یا باہر سنی جائیں یا سنائی دی جاسکتی ہوں۔
(2) سیکشن3 کے ذیلی سیکشن 2 کے تحت کوئی شخص:
(اے) کسی عبادت گاہ میں آذان دینے، جمعہ یا عید کی نمازوں کے موقع پر عربی میں خطبہ دینے، کسی شخص کی وفات، کسی شخص یا چیز کی گمشدگی یا ملنے کا اعلان کرنے کیلئے ایک بیرونی ساؤنڈ سسٹم استعمال کر سکتا ہے؛یا (بی) حکومت یا حکومت کی جانب سے کسی مجاز افسر کی پیشگی اجازت سے کسی جائے عامہ پر موزوں اوقات کے دوران بیرونی ساؤنڈ سسٹم اجازت نامہ میں درج شرائط کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔

5۔ معائنہ جات۔
مقامی پولیس اسٹیشن کا انچارج افسر اس ایکٹ کی دفعات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے مقرر کردہ باقاعدہ وقفوں سے ہر عبادت گاہ کے ساؤنڈ سسٹم کا معائنہ کرے گا یا کرائے گا اور مجوزہ طریق کار کے مطابق ان تمام معائنہ جات کا ریکارڈ رکھے گا۔

6۔ سزا۔
اگر کوئی شخص سیکشن3 یا 4 کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی کرے، وہ چھ ماہ تک کی قید اور بچیس ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک کے جرمانے کا مستوجب ہوگا۔

7۔ ضبطی کا اختیار۔
(1) پولیس آفیسر جو عہدہ میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے کم نہ ہوایسا کوئی بھی ساؤنڈ سسٹم ضبط کر سکتا ہے جو اس ایکٹ کے تحت جرم کے ارتکاب میں استعمال ہوا ہو یا جس پر معقول وجوہ کی بنیاد پر جرم میں استعمال کئے جانے کا شبہ ہو۔
(2) اس سیکشن کے تحت ضبط شدہ کوئی ساؤنڈ سسٹم جتنی جلدی ہو سکے اس ایکٹ کے تحت جرم کی سماعت کیلئے دائرہ اختیار کی حامل عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

8۔ دست اندازی اور سرسری سماعت۔
(1) اس ایکٹ کے تحت کوئی جرم قابل دست اندازی اور ناقابل ضمانت ہوگا۔
(2) اس ایکٹ کے تحت جرم کی سماعت مجسٹریٹ درجہ اول سرسری سماعت سے متعلق ضابطے کے بابXXII کی دفعات کے مطابق کرے گا۔

9۔ جرم کا تصفیہ۔
(1) ذیلی سیکشن (2) کے تحت حکومت یا حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں خاص طور پر مجاز بنایا گیا افسر کسی بھی مرحلہ پر انتظامی جرمانہ جس کی مالیت پچیس ہزار روپے سے کم نہ ہو، جمع کرانے پر اس ایکٹ کے تحت کسی جرم کا تصفیہ کر سکتا ہے۔
(2) اگر ملزم پہلے ہی اس ایکٹ کے تحت سزا یافتہ ہو یا اسکے سابقہ جرم کا حکومت یا حکومت کے کسی مجاز افسر نے تصفیہ کیا ہو تو اس ایکٹ کے تحت جرم ناقابل تصفیہ ہوگا۔

10۔ ضبطی (Confiscation)۔
اس ایکٹ کے تحت کسی جرم کی سماعت کرنے والی عدالت اس ایکٹ کے تحت ہونے والے جرم میں استعمال ہونے والے کسی بھی لاؤڈ اسپیکر یا ساؤنڈ ایمپلی فائر یا سازو سامان کی ضبطی کا حکم دے سکتی ہے۔

11۔ سالانہ رپورٹ۔
(1) ضلعی پولیس کا ہر سربراہ اس ایکٹ کے تحت عمل در آمد کی ماہانہ رپورٹ حکومت کو بھیجے گا۔
(2) حکومت ہر سال31 مارچ سے پہلے گزشتہ سال سے متعلق سرگرمیوں اور اس ایکٹ پر عمل درآمد کے لئے سفارشات کی سمری پر مشتمل عمل درآمد کی مجموعی سالانہ رپورٹ صوبائی اسمبلی پنجاب میں پیش کرے گا۔

12۔ قواعد وضع کرنے کا اختیار۔
حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اس ایکٹ کے مقاصد کے حصول کیلئے قواعد وضع کر سکتی ہے۔

13۔ تنسیخ اور استثنا۔
(1) پنجاب ریگولیشن آف لاؤڈ سپیکرز اینڈ ساؤنڈ ایمپلی فائرز آرڈیننس،
1965 (II بابت1965)اس (ایکٹ کے ذریعے)منسوخ کیا جاتا ہے۔
(2) پنجاب ریگولیشن آف لاؤڈ سپیکرز اینڈ ساؤنڈ ایمپلی فائرز آرڈیننس،
1965 (II بابت1965) کی تنسیخ کے باوجود منسوخ شدہ آرڈیننس کے تحت کیا گیا کوئی بھی کام یا کی گئی کوئی بھی کاروائی ایسے ہی مؤثر ہوگی جیسے کیا گیا وہ کام یا کی گئی وہ کاروائی اس ایکٹ کے تحت کی گئی ہو۔

14۔ تنسیخ۔
پنجاب ساؤڈ سسٹمز(ضابطہ)آرڈیننس،2015 (V بابت2015) اس (ایکٹ) کے ذریعے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
”یہ ایکٹ 6 مارچ،2015 کو پنجاب اسمبلی سے پاس ہوا؛ گورنر پنجاب نے17 مارچ
2015 کو اسے منظور کیا؛ اوریہ مؤرخہ18 مارچ،2015 کو پنجاب گزٹ (غیر معمولی) میں صفحات3425 تا3427 پر شائع ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں