20ارب روپے والے انتخابات کے ناقص انتظامات

20ارب روپے والے انتخابات کے ناقص انتظامات


عام انتخابات 2018ء کے انعقاد کیلئے پاکستان کی انتخابی تاریخ کے سب سے بہترین انتظامات کے دعوے کئے جارہے تھے، جن دعوؤں کی قلعی 25جولائی کی شام اس وقت کھلنا شروع ہوگئی جب انتخابی نتائج کے جدید ترین نظام کے بارے میں بتایا گیا کہ RTS نظام ناکارہ ہوچکا ہے اور انتخابی نتائج بروقت دینے سے قاصر ہے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج میں تاخیر کی وجہ بننے والے آر ٹی ایس سسٹم اور موبائل ایپ تیارکرنے والوں کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق الیکشن کے نتائج بروقت مرتب نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کا فیل ہونا بھی ہے، پریذائیڈنگ افسروں نے آرٹی ایس موبائل ایپ کے ذریعے اپنے حلقے کے نتائج جمع کروانے تھے مگریہ ایپ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، الیکشن کمیشن نے یہ ایپ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کی معاونت سے تیارکی تھی جس کے سربراہ ڈاکٹر عمر سیف ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آر ٹی ایس سسٹم کو ناکام بنانے میں ڈاکٹر عمر سیف اور ان کی ٹیم کی نااہلی یا سازش شامل ہوسکتی ہے تاکہ اس طریقے سے نتائج کے حصول میں تاخیرکا حربہ اپنا کر انتخابی نتائج کومتنازعہ بنایا جاسکے لیکن یورپی یوین کے مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس نظام کو جانچنے کیلئے کوئی عملی مشق نہیں کی جس کی وجہ سے یہ نظام ضرورت کے وقت کام نہ کرسکا۔دنیا بھر میں ایسے سافٹ وئیر کو پہلے چیک کیا جاتا ہے۔ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم میں خرابی سے قومی اسمبلی کے ایک حلقے کا نتیجہ غلط قرار دیدیا گیا ہے، یہ2018 ء کے عام انتخابات کا پہلا واقعہ ہے جس میں نتیجے کو غلط قرار دیا ہے۔

این اے 190 ڈی جی خان کے ریٹرننگ آفیسر نے تحریک انصاف کے ذوالفقار کھوسہ کی کامیابی کے جاری نتیجے کو رزلٹ مینجمنٹ سسٹم میں خرابی کے باعث غلط قرار دیدیا۔ ریٹرننگ آفیسر منیر حسین گل کے جاری کردہ تازہ نتائج کے مطابق 72ہزار 189ووٹ لینے والے آزاد امیدوار امجد فاروق این اے 190 سے کامیاب ہوئے ہیں۔نئے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے ذوالفقار کھوسہ نے اس نشست پر 71964ووٹ لئے ہیں اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس سے قبل جاری کردہ نتائج میں پی ٹی آئی امیدوار سردار ذوالفقار کھوسہ 110ووٹ کی برتری پر تھے اور جیت رہے تھے۔جہاں ایک جانب 20ارب روپے کی خطیر رقم قومی انتخابات پر خرچ کی گئی وہیں پاکستان کی 71سالہ ملکی و انتخابی تاریخ کے بہترین انتظامات محض دکھاوا ثابت ہوئے، ان انتخابات میں ایک بات پر افواج پاکستان کو شاباش دی جاسکتی ہے کہ مجموعی طور پر ملک بھر میں پُر امن انتخابات ہوئے کیونکہ دشمن قوتوں کی بھرپور کوشش تھی کہ جس طرح انتخابی مہم کے دوران پاکستان میں جگہ جگہ خودکش دھماکے اور دہشت گردی کی دیگر وارداتیں کی گئیں اسی طرح 25جولائی کے روز بھی دہشت پھیلانے کی کوشش کی جانی تھی لیکن افواج پاکستان کی کوششوں سے ووٹنگ کا عمل پرُامن ماحول میں ممکن ہوا، انتخابات میں اگر خراب کارکردگی اور اہلیت نہ ہونے کا الزام کسی پر لگ سکتا ہے تو وہ خود الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے آر ٹی ایس کا نظام نصب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس نظام کے ذریعے تیزترین اور فول پروف نتائج حاصل کئے جاسکیں گے جبکہ یورپی یونین مبصرین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آرٹی ایس کی تنصیب بغیر کسی تجربے اور عملی مظاہرے کے کرکے بڑے بڑے دعوے کرڈالے جس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی اور شکوک و شبہات نے جنم لیا۔ دوسری جانب کراچی میں 2002ء سے انتخابی مبصر کے فرائض انجام دینے والے مبصرین کی سماجی تنظیم سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان (CSAP) نے سندھ کے الیکشن کمیشن آفس پر الزام عائد کیا ہے کہ مطلوبہ دستاویزات مکمل کرنے کے باوجود سندھ الیکشن کمیشن کے پبلک ریلیشنزآفیسر نے 24 جولائی کی رات الیکشن آبزرورکارڈبناکر دینے کی بجائے فائل واپس دیتے ہوئے کارڈ جاری کرنے سے معذرت کرلی، افسوسناک امر یہ ہے کہ اس غیر ذمہ دار افسر نے کارڈ جاری نہ کرنے کی وجہ افواج پاکستان اور اس کی ماتحت ایجنسیوں کی جانب سے انکار کی بتائی حالانکہ افواج پاکستان کی جانب سے انتخابات کے حوالے سے بنائی گئی ہیلپ لائن پر جب رابطہ کیا گیا تو افواج پاکستان کے ذمہ دارجوان نے مؤقف دیا کہ ہمیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صرف سیکورٹی کی ذمہ داری دی گئی ہے کسی مبصر، صحافی یا دیگر کو کارڈ کے اجراء کا اختیار الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ہے۔ پاک فوج کے اُس نمائندے نے سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندے کی فراہم کردہ معلومات پر ہی سوال کیا کہ اگر سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان کو الیکشن آبزرورز (Election Observer) کے کارڈ کے اجراء پر پاک فوج یا اس کے کسی ادارے کو اعتراض ہوتا تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ہیڈکوارٹر کس طرح آپ کے اسلام آباد کے نمائندوں کو کارڈ جاری کرسکتا تھاجس پر ایک ذمہ دار افسر ڈائریکٹر پی آر نے دستخط کئے ہیں۔ پاک فوج ہیلپ لائن کے جوان نے مشورہ دیا کہ اس سلسلے میں سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان کو چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا چاہئے۔اس موقع پر سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین محمد سعید نے بتایاکہ ہماری این جی او نے قومی انتخابات کی آبزرویشن اور اس سے قبل ووٹر کو گھر سے نکل کر ووٹ کا حق استعمال کرنے کے حوالے سے ”ووٹ دو“ کے سلوگن کے تحت ایک مہم چلائی اور اس سلسلے میں اپنا قومی فریضہ سمجھ کر ایک نیوز اسٹوڈیو تیار کیا جس پر لاکھوں روپے کے اخراجات آئے لیکن الیکشن کمیشن سندھ کے ایک نااہل افسر نے ہماری ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔انہوں نے بتایا کہ جس دور میں کچھ لوگ یہ پروپیگنڈہ کررہے تھے کہ عام انتخابات نہیں ہوں گے ہم نے اس دور میں ووٹر کی ذہن سازی شروع کردی تھی کہ پاکستان کی جمہوریت میں عام انتخابات کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ قوم ووٹ ڈالنے کی تیاری کرے عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے ووٹر سازشی لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں بلکہ ووٹ ڈالنے کیلئے اپنا ذہن بنائیں۔ 2018 ء کے انتخابات میں ہم نے خواتین ووٹرز پر زیادہ کام کیا اور انہیں اُن کے ووٹ کی اہمیت کا بتایایہی وجہ ہے کہ جس کا فائدہ یہ ہوا کہ خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد گھروں سے نکلی اور اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ ایک سوال کے جواب میں سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین محمد سعید نے بتایا کہ ووٹر کو گھر سے نکلنے اور اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کی ترغیب میں ہمارے کنسورشیم سے منسلک روزنامہ ”قومی سہارا“ ماہنامہ ”القانون“ ماہنامہ ”سول سوسائٹی نیوز“ اور سی ایس این ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اہم کردار ادا کیا لیکن ہمارے آبزرورز خاص طور سے نوجوان آبزرورز جنہیں تین ماہ تک مسلسل تربیتی مراحل سے گذارا گیا اور گلی محلوں میں عوام کے پاس بھیجا گیا کہ وہ ووٹ کا حق استعمال کریں۔ ان نوجوان آبزرورز کو سندھ الیکشن کمیشن کی جانب سے مبصر کارڈ (Election Observer) جاری نہ کرنے پر اور 25جولائی کو انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے کا موقع نہ ملنے پر شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ تین ماہ تک ووٹر کو گھر سے نکلنے کی ترغیب دینے کے بعد مانیٹرنگ کا موقع نہ ملنے پر نوجوان سخت مایوسی کا شکار ہوئے۔ ہم ماہنامہ ”القانون“ اسلام آباد کے توسط سے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان اور سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کی مکمل انکوائری کروائی جائے کہ کس طرح سندھ الیکشن کمیشن کے پبلک ریلیشنز آفیسر نے سوال سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مبصر کارڈ روکے حالانکہ اسلام آباد کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز نے ہماری این جی اوکے اسٹاف کو آخری روز کارڈ جاری کئے۔ سندھ الیکشن کمیشن کے حوالے سے انتظامی نااہلی کی ایک حیرت انگیز بات سامنے آئی کے جس دور میں بروقت رابطے کیلئے ٹیلی فون کے استعمال کی اہمیت بڑھ جاتی ہے الیکشن کمیشن سندھ کے عملے نے فون نہ سننے کی وجہ سے ٹیلی فون ریسورسز اُٹھا کر سائٹ پر رکھے ہوئے تھے۔ انتظامی اُمور کے ماہرین نے اسے بدترین انتظامی نااہلی سے تشبیہ دی ہے اور اسلام آباد کے ذمہ داران سے سوال کیا ہے کہ ایسے نااہل اور ذمہ داریوں سے بھاگنے والے افراد کو کس طرح اتنی اہم ذمہ داریوں پر فائض کیا جاسکتا ہے؟

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کچھ حلقوں کے انتخابات کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران کچھ مقامات پر پولنگ اسٹاف ایک مخصوص سیاسی جماعت کی طرف جانبدار تھا جس نے دوسرے پارٹی کے اسٹال سے پرچی حاصل کرنے والے ووٹرز کو کمزور وجوہات کی بناء پر واپس بھیج دیا۔کئی حلقوں میں پولنگ اسکیمیں غیر تسلی بخش تھیں،خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ ملنے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں، الیکشن کمیشن نے محکمہ جاتی کام اچھے طریقے سے انجام دیا،ایچ آر سی پی کے مبصرین کے اعداد و شمار پر مشتمل ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ کم از کم ایک مثال ایسی ہے جس میں خواتین ووٹرز نے بتایا کہ ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ کسے ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہیں،اس کے علاوہ کمیشن کو مختلف علاقوں سے یہ شکایات بھی موصول ہوئیں کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔انسانی حقوق کے ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ اس طرح کے حالات قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں لہٰذا اُمید ہے کہ اس طرح کی معاملات کو فوری طور پر شفافیت کے ساتھ حل کیا جائیگا۔ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق انتخابات والے دن کمیشن کی نگران ٹیم نے قومی اسمبلی کی 67 نشستوں کا مشاہدہ کیا، ان نشستوں میں 12 بلوچستان، 14 خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں، 21 پنجاب اور اسلام آباد اور 20 سندھ سے تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیشن نے اپنا محکمہ جاتی کام اچھے طریقے سے انجام دیا جبکہ سیاسی مواد میں ان کا کام توقعات سے کم رہا۔ اس کے علاوہ پولنگ اسکیمیں غیر تسلی بخش تھیں اور لاہور کنٹونمنٹ کے مختلف ووٹرز کو یہ نہیں معلوم تھا کہ انہوں نے کہا ں ووٹ ڈالنا ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق بہت سے پولنگ اسٹیشن ایک ساتھ بنائے گئے تھے لیکن وہ ووٹرز کی تعداد کے حساب سے بہت چھوٹے تھے، جس کے نتیجے میں پورے دن پولنگ کا عمل سست روی کا شکار رہا۔اس کے علاوہ مختلف کیسز میں غیر تربیت یافتہ عملہ بھی دیکھا گیا۔اس کے علاوہ ایچ آر سی پی کو پریزائیڈنگ افسر کی جانب سے شکایت بھی موصول ہوئی کہ اس نے رات بھر پولنگ اسٹیشن میں گزاری تاہم اسے سرکاری طور پر اپنے ساتھیوں کے لیے کھانے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق انتخابات کے دوران متعدد پولنگ اسٹیشن چھوٹے اور ہوا دار نہیں تھے جبکہ کچھ مقامات پر پنکھے بھی موجود نہیں تھے۔انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ کمیشن اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ ایک ٹاسک دینے کے بعد الیکشن کمیشن اسٹاف کو اس کو بہتر طریقے سے نبھانا چاہئے تھا۔

یورپی یونین مبصرمشن کا عام انتخابات کے حوالے سے مِلاجُلا ردعمل

یورپی یونین الیکشن آبزرور مشن نے مجموعی طور پر پاکستان میں عام انتخابات پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کاوشیں متاثر کن اور قابل تعریف ہیں‘الیکشن کے دوران چھوٹی چھوٹی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تاہم مجموعی طور پرالیکشن کے نتائج قابل اطمینان ہیں‘ یورپی یونین وفد کا کہنا ہے کہ الیکشن سے پہلے تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے اور ووٹر کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے یکساں مواقع نہیں ملے،پاک فوج کو ووٹرز کی مدد کرتے دیکھا مداخلت کرتے نہیں دیکھا‘الیکشن کے دوران امن و امان کے حوالے سے کوئی بدنظمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آرٹی ایس) کوآزمائش کے بغیر استعمال کیاگیا، میڈیا کو ووٹنگ کے دوران کوریج کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، یورپی یونین کو کالعدم جماعتوں کے الیکشن لڑنے پر تشویش ہے۔وفاقی دارالحکومت میں یورپی یونین مبصر مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے مبصرین نے 113 حلقوں میں مجموعی طور پر 582 پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کئے(یورپی یونین کیلئے قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے84ہزارپولنگ اسٹیشنوں کی مانیٹرنگ ممکن نہ تھی)۔ مسٹر مائیکل نے کہا کہ انہوں نے بذات خود کئی پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کئے۔ پورپی یونین کے مبصرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات سے کسی طور پر بھی بہتر نہیں ہیں،ہمارے مبصرین کے مشاہدے کے مطابق کچھ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے باوجود ٹرن آؤٹ 52 فیصد سے زیادہ رہا۔ یورپی یونین کے مبصرین نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی سے انتخابی عمل میں کوئی مداخلت نہیں ہوئی‘وہ صرف شناختی کارڈ کی چیکنگ کرتے رہے اور ووٹرز کو قطا ر و ں میں رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل شفاف رہا تاہم گنتی میں بعض مسائل سامنے آئے۔ بعض پریزائیڈنگ افسران کو رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (RTS)کو استعما ل کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے نتائج تاخیر کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض چھوٹی جماعتوں نے شکایت کی کہ کم مالی وسائل کے باعث وہ پرنٹ و الیکٹر ا نک میڈیا پر بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اشتہاری مہم کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ یورپی یونین کے مبصر مشن نے اقلیتوں اور خواتین کی شرکت سمیت احتساب اور شفافیت کی بہتری سے متعلق الیکشن کمیشن کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔

نتائج کے اعلان میں تاخیر کے علاوہ کوئی قابل ذکرواقعہ سامنے نہیں آیا،فافن

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات 2018ء کے حوالے سے کہا ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں ثابت کرتی ہیں کہ مسائل کے باوجود لوگوں کا انتخابی عمل پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے الیکشن 2018 ء کی ابتدائی مشاہداتی رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر اور گنتی کے عمل میں غیر شفافیت کی شکایات کے علاوہ الیکشن کا دن پرامن اور بڑے تنازع سے پاک رہا‘ انتخابات 2018ء میں مردوں کا ووٹر ٹرن آؤٹ 58اعشاریہ 3 فیصد اور خواتین کا 47 فیصد رہا۔فافن کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کے دن نتائج کے اعلان میں تاخیر کے علاوہ کوئی قابل ذکرواقعہ سامنے نہیں آیا‘ رپورٹ میں کہا گیا کہ فوج،پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی وجہ سے عوام میں احساس تحفظ بڑھا اور ووٹروں کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالا۔ فافن کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن امیدواروں کے نتائج پر تحفظات دور کرے، انتخابات کے معیار پر لگنے والے داغ کے ذمہ دار اہلکاروں اور اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے، الیکشن کمیشن تفتیش کرنے کی بعد سیاسی امیداروں کی بات کو رد کرے۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کے دن ووٹر ٹرن آؤٹ 50اعشاریہ 3فیصد رہا، انتخابات میں 49 اعشاریہ48ملین ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا، پنجا ب میں ووٹر ٹرن آؤٹ 59فیصد، اسلام آباد میں 58 اعشا ر یہ 2فیصد، سندھ میں ووٹر ٹرن آؤٹ 47 اعشا ر یہ7 فیصد، خیبر پختوانخوا میں 43اعشاریہ6 فیصد اور بلو چستا ن میں ووٹر ٹرن آؤٹ 39اعشاریہ6 فیصد رہا۔

سول سوسائٹی ایسوسی ایشن کے مبصرین کا اسلام آباد اور
راولپنڈی کے انتخابی انتظامات پر اطمینان کا اظہار

عام انتخابات کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مبصرین کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے حلقوں میں بطور مبصر کام کرنے کے لئے Election Observer کے کارڈ جاری کئے۔ سول سوسائٹی ایسوسی ایشن اسلام آباد کی سینئر وائس چیئرپرسن محترمہ تسنیم فاطمہ نے اپنی ٹیم ممبرز ثمن بی بی، فضاء بتول، نرگس خاتون اور سید عمران علی شاہ کے ہمراہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف حلقوں کے درجنوں پولنگ اسٹیشنز کے دورے کئے۔ سول سوسائٹی اسلام آباد کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور الیکشن کمیشن کے انتظامات کے حوالے سے بھی کوئی خاص شکایات موصول نہیں ہوئیں البتہ الیکشن اسکیم کے حوالے سے ملک بھر کی طرح اسلام آباد اور راولپنڈی کے ووٹروں کو بھی شکایات تھیں۔ اس سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں اور ووٹروں نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی کہ حلقہ بندیوں کے وقت حلقے کو مکمل طور پر تبدیل کردینے سے بہت زیادہ مسائل پیدا ہوجاتے ہیں کیونکہ اس حوالے سے کوئی تربیت یا الیکشن کمیشن کی جانب سے قبل ازوقت آگاہی نہیں دی جاتی جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آنے والے ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو ووٹروں کی آسانی کیلئے آگاہی مہم شروع کرنی چاہئے تاکہ کم تعلیم یافتہ ووٹروں کو ووٹنگ کے ذریعے انتخابات میں حصہ لینے میں آسانی ہو۔ اس سلسلے میں انتخابات میں حصہ لینے والے متعدد امیدواروں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تجویز دی کہ جس طرح این جی اوز سے ووٹروں کو پروموٹ کرنے اور الیکشن ڈے پر آبزرویشن کرائی جاتی ہے اسی طرح این جی اوزکی اس حوالے سے خدمات لی جاسکتی ہیں۔ آخر میں سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان اسلام آباد کی سینئر وائس چیئرپرسن محترمہ تسنیم فاطمہ نے اپنی رپورٹ مکمل کرتے ہوئے بتایا کہ لاکھوں لوگوں کے ووٹنگ میں حصہ لینے کے عمل میں کچھ خامیاں ہوسکتی ہیں جن کی اصلاح سے الیکشن کمیشن ایسی خامیوں اور غلطیوں سے بچ سکتا ہے لیکن اگر مجموعی کارکردگی کی بات کی جائے تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے خاصے اچھے انتظامات کئے گئے تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے عوام کو اس مرتبہ مایوس نہیں کرے گی، بلاول

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عام انتخابات کے حوالے سے پارٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اور بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے عام انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے پورے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے وہ مستعفی ہوجائے۔ چیف الیکشن کمیشنر، سیکریٹری الیکشن کمیشن سمیت تمام اراکین و صوبائی عہدیداران شفاف انتخابات کے انعقاد میں بُری طرح ناکام ہوئے ہیں لیکن بلاول نے کہا کہ ہم جمہوری کے تسلسل کیلئے نشستوں سے مستعفی ہونے کی بجائے پارلیمنٹ میں جاکر اپنا مؤقف پیش کرتے رہیں گے تاکہ غیر جمہوری قوتوں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع نہ ملے۔ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ سندھ سمیت پاکستان بھر کے عوام نے اتنے مشکل حالات میں پاکستان پیپلزپارٹی پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے ہم ملک بھر کے عوام سے اور خاص طور سے سندھ کے عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ اس مرتبہ انہیں مایوس نہیں کریں گے اور تیز ترین ترقیاتی منصبوبوں کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں گے۔ بلاول نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے پاس اتنی اکثریت ہے کہ وہ آسانی سے حکومت سازی کررہی ہے حکومت سازی کرکے عوام کی خدمت کا فوری سلسلہ شروع کررہے ہیں۔ ہم عوام کو ابتدائی100دنوں میں کیا سہولت دے سکتے ہیں اس پر کام کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں سندھ میں انتخابی نتائج کی تکمیل کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی کی 76 نشستوں کے ساتھ صوبے میں تیسری باری لینے اورحکومت سازی کی ہیٹ ٹرک کے لیے تیارہوگئی‘ دادو‘ کشمور‘کندھ کوٹ‘جامشورو‘نوابشاہ‘ ٹھٹھہ ودیگراضلاع میں پی پی کا کلین سوئپ‘ارباب غلام رحیم‘ذوالفقار مرزا‘مصطفی جتوئی کو شکست کا سامنا‘پیپلزپارٹی کے اعجاز جکھرانی بھی ہارگئے، سندھ اسمبلی کی 130 جنرل نشستوں کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو 74نشستوں پر برتری حاصل ہے جس کے بعد پیپلزپارٹی صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اورسندھ میں واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی تیاری شروع کردی ہے۔سندھ اسمبلی کے 168 کے ایوان پرمشتمل ہے۔سندھ میں حکومت سازی کے لیے 68 نشستیں درکار ہوتی ہیں جبکہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 76 نشستوں کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے اور مسلسل تیسری مرتبہ آئندہ پانچ سال کے لیے صوبے میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔اگر سیاسی جماعتوں کی کامیابی کے تناسب سے خواتین کی اور اقلیتی نشستوں کی تقسیم کی جائے تو پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح بن سکتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے98اراکین، تحریک انصاف30، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان19، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس15، متحدہ مجلس عمل2، تحریک لبیک پاکستان 3 اور مسلم لیگ ن 1 کا ایک رکن ہوگا۔ سندھ میں کچھ اہم نشستوں کا مزید احوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی پی ایس 19 کے امیدوار عبدالباری پتافی سابق رکن قومی اسمبلی اورپیپلزپارٹی چھوڑنے والے علی گوہر خان مہر کو 3231 کی لیڈ سے شکست دے کر اپنے والد سابق رکن صوبائی اسمبلی مرحوم سردار احمد علی خان پتافی کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوگئے‘ دوسری جانب سابق وزیر مملکت و رکن قومی اسمبلی خالد خان لوند نے 9500 کی لیڈ سے مخالف امیدوار سابق ایم این اے میاں مٹھو کو شکست دی۔ پیپلزپارٹی نے مسلسل تیسری بار ضلع عمرکوٹ سے کلین سوئپ کرلیا‘ چاروں اْمیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب،جیت کی خوشی میں ریلیاں،جشن اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔این اے220پر پی پی کے نواب یوسف تالپور نے شاہ محمود قریشی کو ہرادیا‘پی ایس 51عمرکوٹ ون سے پیپلزپارٹی کےاْمیدوار سید سردار علی شاہ نے جی ڈی اے کے اْمیدوار جادم منگریوکو شکست دیدی‘ پی ایس 52عمرکوٹ ٹو سے پیپلزپارٹی کے اْمیدوار سید علی مردان شاہ کامیاب قرار پائے ہیں،انکے مدمقابل جی ڈی اے کے اْمیدوار سابقہ وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم دوسرے نمبر پر رہے ہیں‘پی ایس 53سے پیپلزپارٹی کے اْمیدوار نواب محمدتیمور تالپور 55ہزارایک سو 55ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے ہیں۔ ضلع ٹھٹھہ کی ایک قومی اور تین صوبائی سمیت تمام نشستوں پر پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے‘ این اے232کے غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کی شمس النساء میمن ایک لاکھ 52 ہزار 6 سو 91 ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوگئی ہیں‘پی ایس- 77 ٹھٹھہ اول پر پیپلز پارٹی کے سید ریاض حسین شاہ شیرازی 50 ہزار 9 سو 9 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ہیں‘پی ایس- 78 ٹھٹھہ دوم پر پیپلز پارٹی کے علی حسن زرداری 48 ہزار 8 سو 36 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ہیں‘پی ایس 79 ٹھٹھہ سوم پر پیپلز پارٹی کے جام اویس گہرام جوکھیو 43 ہزار 8 سو 69 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔ ضلع جام شورو میں ایک قومی اسمبلی کی نشست اور تین صوبائی نشستوں پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کرلی ہے‘ کامیاب ہونے والوں میں سابقہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ شامل ہیں۔ جام شورو میں ایک قومی اسمبلی کی نشست این اے 233پر پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار سردار سکندر علی راہپوٹو نے 87860ووٹ لیکر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ان کے مد مقابل سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ نے 42630ووٹ حاصل کئے جبکہ صوبائی نشست پی ایس 81پاکستان پیپلز پارٹی کے گیان چند ایسرانی نے 34927ووٹ لیکر کامیاب ہوئیں جبکہ آزاد امیدوار ملک چنگیز خان نے 26975ووٹ حاصل کئے۔ صوبائی نشست پی ایس 82پر پاکستان پیپلزپارٹی کے سردار ملک اسد سکندر 40602ووٹ لیکر کامیاب ہوئیں جبکہ ان کے مد مقابل آزاد امیدوار ڈاکٹر سکندر علی شورو نے 36012ووٹ حاصل کئے جبکہ ضلع جام شورو میں صوبائی نشست پی ایس 80پر سابق وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سید جلال محمود شاہ کو شکست دیکر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نواب شاہ کا انتخابی معرکہ سر کرلیا۔پیپلز پارٹی کا قلعہ چوتھی مرتبہ الیکشن میں ناقابل تسخیر رہا۔دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کا کلین سوئپ‘قومی اسمبلی کے حلقہ 213 پرآصف علی زرداری نے101192 ووٹ لے کر میدان مار لیا‘زرداری کی بڑی ہمشیرہ سابق ایم این اے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو جو کہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 37 سے انتخاب لڑ رہی تھیں 55524 لے کر کامیابی سے ہمکنار ہوئیں‘اسی طرح حلقہ پی ایس 38 پر چوہدری طارق مسعود چوتھی مرتبہ کامیاب ہوئے۔ انہوں نے 47041 ووٹ حاصل کئے‘دوسری جانب حلقہ پی ایس 40 پر پی پی کے خان محمد ڈاہری نے 55393 ووٹ لے کر کامیابی اپنے نام کی‘پیپلز پارٹی کی شاندار کامیابی پر زرداری ہاؤس میں جشن کا سماں تھامٹھایاں تقسیم کی گئیں۔ ضلع بدین میں ہونے والے عام انتخابات میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنے مخالف امیدوار محمد اسماعیل راہو سے شکست کھا گئے جبکہ انکی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اعصاب شکن مقابلے کے بعد کامیاب ہو گئیں‘این اے 230 پر جی ڈی اے کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے 96875ووٹ لیکر کامیابی حاصل کر لی جبکہ انکے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے حاجی رسول بخش چانڈیو نے 96015 ووٹ حاصل کئے اسی حلقہ میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ 73 میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ڈاکٹر فہمیدہ مرزا 37364 ووٹ لیکر ہار گئیں جبکہ انکے مقابل حاجی تاج محمد ملاح نے 37645ووٹ حاصل کئے اور کامیابی حاصل کی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی بدین کے حلقہ پی ایس 74 سے ہار گئے تھے انہوں نے 28886ووٹ لئے جبکہ انکے مدمقابل پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل راہو نے44953 ووٹ لئے اور کامیاب رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں