بابا رحمتے سے ایک ملاقات

بابا رحمتے سے ایک ملاقات


میزبان: سید لیاقت بنوری ایڈووکیٹ

احمد نگر آخری ریلوے اسٹیشن تھا جس سے آگے 19 کلو میٹر پر رسول پور گاؤں تھا۔جس کیلئے صبح آٹھ بجے ایک بس روانہ ہوتی تھی، جو پانچ بجے واپس آتی تھی۔ اسی طرح ایک بس وہاں سے روانہ ہو کر شام کو واپس جاتی تھی۔ شام جب احمد نگر ریلوے اسٹیشن پر اُترا، تو سنسانی پھیلی ہوئی تھی۔ ریلوے کے عملے کے چند لوگوں کے علاوہ تین مسافر تھے جو اسی ٹرین سے آگے جارہے تھے۔ میں اپنے مختصر سے سامان کے ساتھ اُتر کر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں آگیا اور اپنا تعارف کرایا، اس سے رات گزارنے کیلئے کسی مناسب جگہ کا پوچھا تو اسٹیشن ماسٹر نے آنے کا مقصد پوچھا، میں نے بتایا کہ میرا تعلق ایک قانونی میگزین کے ساتھ ہے، اسکو ایک کاپی پیش کی اور اسکو بتایا کہ ہم نے بابا رحمتے کا بڑا ذکر سنا ہے، اس سے ملنے کی خواہش یہاں تک کھینچ لائی۔ اسٹیشن ماسٹر نے بتایا کہ اسٹیشن پر ہی ایک مسافر خانہ ہے، آپ وہاں رہ لیں، اگر ذرا جلدی آتے یا پہلے سے معلوم ہوتا تو احمد نگر کے چوہدری کے ڈیرے پر آپکی رہائش کا انتظام کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے چائے پلائی، جب تک میں چائے پی رہا تھا انہوں نے القانون کا مطالعہ شروع کیا، پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ بابا رحمتے کو کس طرح جانتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ ہمارے ملک کے چیف جسٹس صاحب نے انکا تذکرہ کیا تھا، اس دن سے شوق تھا کہ بابے رحمتے سے ملاقات کی جائے۔ اسٹیشن ماسٹر نے کہا ہمارے ہاں اخبار دوسرے یا تیسرے دن آتا ہے، ہمارے چیف جسٹس صاحب کی ایک دو تصویریں نظر سے گزری ہیں۔ ایک تصویر میں اپنے پورے عدالتی لباس میں خواتین کے جھرمٹ میں کھڑے اور ایک تصویر میں جہاز میں ایئر ہوسٹس کے ساتھ سیلفی بناتے ہوئے بڑے اسمارٹ نظر آرہے ہیں، لگتا ہے ہمارے چیف جسٹس صاحب کو تصویروں کا کافی شوق ہے۔میں نے کہا،جی بھائی، ہمارے چیف جسٹس صاحب بہت ہی شاندار انسان ہیں۔ انہوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ انصاف تو عوام کو ویسے بھی نہیں مل رہا اور نہ ہی وہ دلوا سکتے ہیں، اسلئے انہوں نے عوام کی صحت اور صفائی کی فراہمی کیلئے بھر پور کوششیں شروع کردی ہیں، امید ہے، عوام کو کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوگا۔ اسٹیشن ماسٹر نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگاکہ توپھر انصاف کا قبلہ کون درست کرے گا؟ میں نے کہا، بھائی آف فکر نہ کریں، کوئی ہیلتھ سیکرٹری کوئی صحت کا وزیر انصاف درستگی کا کام کر سکتا ہے۔ ہمارے ملک کی یہی تو ایک خوبی ہے کہ ہم اپنا کام خود نہیں کرتے، ایک دوسرے کے کاموں میں الجھے رہتے ہیں۔ آپ فکر نہ کریں، ہر تیسرا چوتھا چیف جسٹس ایسا کرتا ہے، اخباروں کی زینت بنتا ہے، واہ واہ ہوتی ہے اور جب جاتا ہے تو پھر تاریخ میں گم ہو جاتا ہے۔
میں نے اس سے پوچھا کہ یہ بابا رحمتا کیا ہے، اس نے کہا واقعی اللہ کی رحمت، انتہائی نیک اور انصاف پسند،وہ جس طرح انصاف کرتا ہے، دشمن بھی اسکی تعریف کرتے ہیں، وہ کبھی کسی کے دباؤمیں نہیں آتا، کسی کی حق تلفی نہیں کرتا، کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرتا، اس پورے علاقے کے لوگ اپنے مسائل اسکے پاس لیکر جاتے ہیں، یہاں قریب کی عدالت احمد نگر میں ہے مگر وہاں جج کی عدالت میں کوئی نہیں جاتا اور اگر کوئی چلا بھی جائے تو جج خود اسکو بابا رحمتے کے پاس بھیج دیتا ہے۔ جج خود کہتا ہے کہ اگر مجھے اوپر سے کسی کا فون آگیا تو مجھے اپنی نوکری ذیادہ پیاری ہے اسلئے بابا رحمتے کے پاس جاؤ۔
ایک بار ڈپٹی کو کوئی کام ہوا، ڈپٹی نے گاڑی بھجوائی کہ بابا رحمتے کو لے آؤ، بابا رحمتے نے گاڑی واپس بھجوائی اور جواب دیا کہ میں سرکار کی گاڑی میں بیٹھ کر کسی کا احسان مند نہیں ہونا چاہتا، تو دوسرا ڈپٹی کو کام ہے تو وہ خود آئے، میں کیوں جاؤں۔ چنانچہ ڈپٹی خود چلا گیا، جاتے ہوئے اپنے ساتھ تھوڑا سا فروٹ لے گیا، بابا رحمتے سخت ناراض ہوا، پھر اس نے وہ سارا فروٹ وہیں لوگوں میں بانٹ دیا، کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ بابا رحمتے کی یہی عادت ہے اسلئے سب لوگ دل کی گہرائیوں سے اسکی عزت کرتے ہیں، اسکے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور مجھے یہ جان کر تو اور بھی خوشی ہوئی کہ ملک کا چیف جسٹس جو یومیہ 40/45 ہزار میں پڑنے والے ججوں کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر درخواستیں کرتا ہے وہ بابا رحمتے کے انصاف کی تعریف کرتا ہے۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ کاش بابا رحمتا چیف جسٹس ہوتا۔میں نے کہا بھائی پھر ہمارا چیف جسٹس کہاں ہوتا، اس نے کہا، کہ جہاں بھی ہوتا ان کے فوٹو اخباروں میں چھپتے ہی رہتے۔
اسٹیشن ماسٹر نے سر ہلایا، اُٹھا، مجھے ساتھ لیا اور مسافر خانے کی طرف چل پڑا۔ ایک بڑا سا کمرہ، مدہم سی روشنی، پرانی سی چارپائی پر مٹی سے بھرا بستر او ر انتہائی پرانے وقتوں کا پنکھا جس نے اسٹارٹ سے پہلے ایک بار پوری طاقت سے جھٹکا مارا اور پھر غوں غوں کی آواز کے ساتھ چل پڑا۔ اسٹیشن ماسٹر نے ایک اہلکار کو آواز دی اور کہا بستر جھاڑ دو، تھوڑی صفائی کردو تاکہ صاحب رات کو سو سکیں۔ اس دوران اس نے مجھے اسٹیشن کی بوسیدہ عمارت دکھائی۔ انگریزوں کے دور کے واقعات سنائے، ابھی ہم باتیں کررہے تھے کہ ایک بچہ آیا اور اس نے اسٹیشن ماسٹر سے کہا کہ کھانا تیار ہے، گھر آجائیں، اسٹیشن ماسٹر نے میری طرف دیکھا اور اسکو ایک دم احساس ہوا کہ میں نے بھی کھانا کھانا ہے اور اسٹیشن یا اس کے ارد گرد کوئی کھانے کی جگہ بھی نہیں تھی، انہوں نے فوراً کہا کہ کھانا آفس بھجوادیں ایک مہمان بھی ہے، ہم یہیں کھانا کھا ئیں گے۔ تھوڑی دیر میں کھانا آیا، ہم نے کھانا کھایا، اس کے بعد وہ مجھے مسافر خانے میں چھوڑ کر گھر چلے گئے۔ دن بھر کی تھکاوٹ اور پنکھے کی آہستہ آہستہ اٹھنے والی لوری نما آوازوں میں سوگیا۔
صبح سویرے ایک بچے کی آوازپر آنکھ کھلی تو دیکھا کہ اسٹیشن ماسٹر صاحب نے گھر سے ناشتہ بھجوایا تھا، اس نے کہا کہ ابو کہتے ہیں جلدی ناشتہ کرکے تیار ہو جائیں، پھر ٹانگے میں بس اڈے پر جائیں تاکہ بس نکل نہ جائے۔ میں نے احساس تشکر کے ساتھ ناشتہ کیا، تیار ہوا، باہر نکلا، تو ایک ٹانگہ کھڑا تھا، اس میں بیٹھ کر بس اڈے کی طرف روانہ ہوا۔ ناہموار سڑک پر لاغر اور کمزور گھوڑے والے ٹانگے پر بیٹھے احمد نگر کی پسماندگی اور عوام کی حالت زار دیکھتااور یہ سوچتا کہ کب کوئی چیف جسٹس، کب کوئی حکمران ان دور دراز علاقوں کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور بہتر زندگی کیلئے یہاں آئے گا اور انکو بھی زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کرائے گا۔ بیس پچیس منٹ تک ہچکولے کھاتا بس اسٹینڈ پر پہنچا، ٹکٹ خریدا اور بس میں سوار ہو گیا۔ بس میں انسان اور جانور سب شریک سفر تھے، بس چلتے ہی درمیان میں مسافر کھڑے ہو کر سفر کیلئے آگئے اور اوپر چھت بھی بھر گئی۔ کھچا کھچ بس آہستہ آہستہ روانہ ہوئی، 19 کلو میٹر کا فاصلہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا۔ راستے میں گاڑی گرم ہوئی تو پانی ڈالنے کیلئے بھی 15 منٹ رکی۔ بہر حال رسول پور اسٹاپ پر اترا،ایک اور مسافر بھی اپنی بکری سمیت نیچے اترآیا، اسکا گھر شاید قریب تھا اسلئے وہ اپنی بکری پکڑ کر چلا گیا۔ میں نے نظر دوڑائی تو سامنے کھیتوں میں عورتیں مرد کام کررہے تھے، میں پگڈنڈی پر چلتے چلتے ان کے قریب پہنچا، سلام دعا کے بعد میں نے بابا رحمتے کا پوچھا تو سب میری طرف متوجہ ہوئے، انہوں نے دور ایک کچے مکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بابا رحمتے کا گھر ہے، اسکے عقب میں بابا رحمتے آپ کو ملے گا۔ میں پگڈنڈی عبور کرتا سبزے اور سبزیوں سے گزرتا ایک چھوٹے سے کچے مکان سے گزر کر جب آگے گیا تو نیم کے درختوں کے جھنڈ کے نیچے چارپائیوں پر کچھ لوگ بیٹھے نظر آئے، میں آہستہ آہستہ قریب پہنچا تو دیکھا کہ سامنے ایک بزرگ حقہ رکھے بیٹھا ہے۔ سائیڈوں پر چارپائیوں پر کچھ مقامی لوگ بیٹھے ہیں۔ چارپائی کے کچھ فاصلے پر دو موڑے پڑے ہوئے ہیں جس پر دو آدمی بیٹھے ہیں۔ میں جب قریب پہنچا، بزرگ نے ایک نظر مجھ پر ڈالی، پھر ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔ مجھے ایک شخص نے اشارہ کرکے اپنے پاس چارپائی پر بیٹھنے کا کہا، میں بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا تھا کہ بوٹا کمہار میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اتنے عرصہ سے کام کررہا ہوں، سڑک پر سامان بیچتا ہوں کبھی تین روپے سے ذیادہ نہیں ملا، آپ اگر مجھے سائیکل دیں تو میں دوسرے گاؤں جاکر بیچوں گا، اگر میرا مال پانچ سے اوپر بکا تو ایک روپیہ آپ کو دوں گا، میں نے سائیکل دی، یہ گیا اور شام کو واپس آیا اور کہا کہ سامان صرف چار روپے کا بکا ہے۔ دوسری بار بھی گیا، جب تیسری بار گیا تو میں پیچھے چلا گیا اس نے وہاں سات روپے کا سامان بیچا، اس نے مجھے جھوٹ بولا، میرے ساتھ دھوکہ کیا، آپ ایک تو اسکو جھوٹا اور دھوکے باز قرار دیں، دوسرا میرے پیسے واپس دلائیں، دوسرے سے پوچھا اس نے شرمندگی سے اثبات میں سر ہلایا اور کہا کہ میری بیٹی کی شادی ہونے والی ہے، میں نے لالچ کی کہ اسکا کچھ بن جائے اسلئے پیسے نہیں دیئے۔ بابا رحمتے نے سر اٹھایا اور فیصلہ دیا کہ دونوں فریقین میں معاہدہ تھا،بوٹا کمہار نے اپنے وعدے سے انحراف کیا، وہ نورا تیلی کو تین روپے واپس کرے۔ نورا تیلی نے کہا کہ اس کو جھوٹا اور دھوکہ باز کہوں تو یہ بابے رحمتے کا کام نہیں کہ وہ کسی کی ذات پر اپنی حدود سے تجاوز کرکے کردار کشی کرے۔ جو کام اس نے کیا اس کے عوض وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، یہی فیصلہ ہے۔ بوٹا کمہار نے کہا فیصلہ منظور ہے۔ دونوں نے اٹھ کر بابے کے قدم چھوئے، بوٹا کمہار گیا گھر سے پیسے لایا اور نورا تیلی کے ہاتھ میں رکھے، دونوں گلے ملے اور مسئلہ ختم۔
بابا رحمتے فارغ ہوا تو میری طرف متوجہ ہوا، جی جناب! آپ کون ہیں اور کیا آپ کا کوئی مسئلہ ہے؟ میں اُٹھا ان کے قریب گیا، اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے بہت پیار سے اپنے قریب بٹھایا، آواز دی، اسلام آباد سے مہمان ہے کوئی لسی پانی کا انتظام کرو، سب لوگ اٹھ کر ہاتھ ملانے لگے، ایک دم دیہاتی ماحول کی خوشبو کا احساس ہوا، محبتوں سے بھری مہمان نوازی اب صرف دورد راز علاقوں میں ہی نظر آتی ہے۔
میں نے القانون ان کی خدمت میں پیش کیا تو وہ مسکرا پڑے، بولے بیٹا ہم کہاں اتنے پڑھے لکھے ہیں کہ ہم کتابیں اور رسالے پڑھیں، ہم تو چار جماعت پڑھ کر اپنے والدین کے ہمراہ کھیتی باڑی کرتے کرتے پتہ نہیں کب جوان ہوئے اور کب بوڑھے ہوگئے۔ میرے والد کی تھوڑی سی زمین تھی، حکمت بھی کرتے تھے، ان کے پاس لوگ آتے تھے وہ ان کی خدمت کرتے تھے۔ کبھی کبھار کسی کا کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو وہ بھی بیچ بچاؤ کراتے ہوئے فیصلہ کرا دیتے تھے۔ ایک بار گاؤں کے چودھری کے بیٹے نے گاؤں کی ایک لڑکی سے بدتمیزی کی، لڑکی نے میرے والد کو آکر بتایا تو میرے والد نے اسکو سمجھایا کہ چودھری کے بیٹے کے خلاف شکایت کرو گی تو وہ آپ کو اور گھر والوں کو اور تنگ کرے گا اسلئے آپ احتیاط کرو اگر دوبارہ ایسی کوئی حرکت کی تو مجھے بتانا، میں اسکے والد سے بات کروں گا۔میں یہ سب سن رہا تھا، میں نے والد سے کہا کہ یہ ذیادتی ہے۔ ایک چودھری کا بیٹا ذیادتی کرے تو خاموشی اور ایک کمہار کا بیٹا کرے تو سرزنش۔ میں نے اس لڑکی کو ساتھ لیا اور پنچایت پہنچ گیا، لڑکی کی بات سن کر سرپنج نے بھی والد صاحب والی بات کی، میں نے کہا کہ نہیں یہ سب غلط ہے، آپ انصاف کے تقاضوں سے انحراف کررہے ہو، میں پاؤں پٹخ کر چلا گیا۔ شام تک سارے گاؤں میں بات پھیل گئی، تمام نوجوان شام کو اس جگہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آپ صبح خود پنچایت لگاؤ اور چودھری کے بیٹے کو بلاؤ۔ دوسرے دن گاؤں کے کچھ بزرگ بھی میرے ساتھ ہو گئے۔ ہم نے چودھری کے بیٹے کو بلایا، چودھری بھی ساتھ آگیا۔ پنچایت میں لڑکی نے تمام روداد سنائی، چودھری کا بیٹا خاموش کھڑا تھا، میں نے چودھری کے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کیا کہتا ہے، وہ خاموش کھڑا رہا، میں نے کہا کہ لڑکی کے سر پردوپٹہ ڈالو، اس نے ڈال دیا، اس کا مطلب تھا کہ میں اسکو اپنی بہن تسلیم کرتا ہوں۔ اس کے بعد میں نے اسکو ایک مہینے کیلئے گاؤں بدری کا فیصلہ سنایا۔ میرے اس فیصلے پر چودھری خود اُٹھ کر آیا، مجھے گلے لگایا اور کہا کہ جس بے خوفی کے ساتھ تم نے یہ فیصلہ کیا ہے اور جس طرح انصاف کیا ہے آج سے تم پنچایت کے سر پنج ہو۔ تمام گاؤں والوں نے بھی انکی حمایت کی اور اسکے بعد یہ چبوترہ ہے اور میں ہوں۔ صبح نماز کے بعد کھیتوں میں جاتا ہوں،10 بجے تک واپس آتا ہوں، پھر یہاں گاؤں والوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔ اگر کوئی فریادی آجائے تو اسکی فریاد سنتا ہوں، اپنے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے احکامات کو مد نظر رکھ کر اپنی دانست کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ کبھی کبھار اگر مشاورت کرنی پڑے تو ساتھیوں کے ساتھ مشاورت بھی کر لیتا ہوں۔ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ آج تک کسی فریادی نے یہ گلہ نہیں کیا کہ اسکے ساتھ بے انصافی ہوئی ہے۔ اب تو دور دور کے گاؤں سے بھی لوگ اپنے مسئلوں کیلئے یہاں آتے ہیں۔ بس یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے اس کام کیلئے حادثاتی طور پر میرا انتخاب کیا اور اسکے بعد سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اتنے میں لسی آگئی ساف ستھرے اسٹیل کے جگ گلاس ہاتھ میں اٹھائے ایک لڑکا آیا، بابے نے اپنے ہاتھوں سے لسی ڈال کر مجھے پیش کی۔ جب میں نے لسی پی لی تو بابے نے مجھ سے پوچھا کہ آپ یہ بتاؤ کہ آپ کو میرا کس نے بتایا کہ اتنی دور اتنا لمبا سفر طے کرکے آپ میرے پاس پہنچے ہو؟ میں نے بتایا کہ میں ایک وکیل ہوں اور میں ایک میگزین بھی شائع کرتا ہوں۔ ہمارے ملک کے چیف جسٹس نے وکیلوں سے خطاب میں آپ کا ذکر کیا، اس کے بعد یہ تجسس ہوا کہ دیکھیں وہ کونسا بابا ہے جس کا ذکر ملک کا چیف جسٹس کرتا ہے۔ بڑی مشکل سے آپ کا پتہ لگا اور یوں میں آپ تک پہنچ گیا اور میں واقعی بہت خوش ہوں کہ میری آپ سے ملاقات ہو گئی۔
بابا نے کچھ دیر کیلئے آنکھیں بند کیں، کچھ سوچا اور پھر بولا کہ آپ اپنے چیف جسٹس کو میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ آپ بابے کا ذکر نہ کریں۔ آپ جس عہدہ جلیلہ پر فائز ہیں، آپ ایسی مثال بنیں کہ بابے آپ کی تعریف کریں، آپ کی مثال دیں۔ بابا نے کہا کہ ہمارے پاس نہ تو اختیار ہے نہ وسائل ہیں، ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کیلئے اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ آج تک نہ کسی کی طرف جھکے، نہ کسی کے دباؤ میں آئے، نہ کسی لالچ یاطمع کا شکار ہوئے، نہ انعام و اکرام کی توقع رکھی۔ اللہ نے آج یہ مقام دیا کہ ملک کے قاضی القضاء تک بھی ہمارے انصاف کا چرچا پہنچ گیا۔میں تو پہلے ہی اللہ کا بہت شکر گزار تھا، اب تو میرا سر اور بھی جھک گیا اور میں اسکو اپنی زندگی کاسب سے بڑا اعزاز سمجھتا ہوں کہ ملک کا چیف جسٹس ملک کے وکیلوں کے سامنے بابا رحمتے کا ذکر کرتا ہے۔ اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، اپنی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے گویا ہوئے، بس بیٹا دعا کرو کہ کبھی کوئی بابا رحمتا پنچایت میں بیٹھ کر اپنے گاؤں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے سامنے اپنے ملک کے سب سے بڑے قاضی کو بھی بطور مثال پیش کرے۔جس دن ایسا ہوا، آپ یقین کرو، یہ ملک جنت بن جائے گا، امن محبت اور انصاف کا گہوارہ۔
تھوڑی سی سانس لیکر بابا رحمتے دوبارہ گویا ہوئے، بیٹا ہمارے پاس یہاں نہ تعلیم ہے، نہ صحت ہے، نہ کوئی آسائش ہے مگر ہمارے یہاں اطمینان ہے، محبت ہے، سکون ہے۔ یہاں کوئی جج نہیں، پولیس نہیں اسکے باوجود امن ہے۔ گھروں کی چار دیواری کا رواج نہیں، عورتیں کھیتوں میں کام کرتی ہیں، خوشی غم سانجھے ہیں، بڑوں کی عزت اور احترام ہے، کوئی کسی کو گالی نہیں دیتا، کوئی کسی کو کمتر نہیں سمجھتا اور نہ ہی کوئی خود کو عقل کل سمجھتا ہے۔ سماجی برائیاں نہیں ہیں، لوگ محنت کرتے ہیں، ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہیں۔ مسجدیں آباد ہیں، صبح سویرے لوگ اٹھتے ہیں، شام کو گاؤں میں میلہ ہوتا ہے، نوجوان گھڑ سواری، نیزہ بازی، پہلوانی اور فٹبال کھیلتے ہیں۔ خواتین کی آپسمیں محفلیں ہوتی ہیں۔ یہاں اور شہری زندگی میں بہت فرق ہے، میں کبھی شہر گیا تو نہیں لیکن سنا ہے کہ وہاں نفسا نفسی ہے، رشتوں ناطوں کا احترام نہیں، میں نے تو یہاں تک سنا ہے کہ بوڑھے لوگوں کیلئے کوئی گھر بنائے گئے ہیں، یہ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ ہمارے یہاں بجلی نہیں ہے، ہم ٹرانسسٹر سنتے ہیں، دن کو تو کام کاج میں ہوتے ہیں شام کو تھوڑی دیر کیلئے خبریں سننے کو مل جاتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے کارنامے بھی سننے کو ملتے ہیں اور عوام کی محرومیوں سے بھی آگاہی ہوتی ہے مگر ہم اسلئے کچھ نہیں کہتے کہ ہم کچھ کر نہیں سکتے۔پچھلے کچھ دنوں سے یہ خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ ہمارے چیف جسٹس صاحب ہسپتالوں کے دورے کررہے ہیں اور پانی کے نلکوں میں پانی چیک کررہے ہیں۔ حکومت سے ہوائی جہاز مانگ کر دورے کررہے ہیں، ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اگر قاضی ایسے کام کرے گا تو انصاف کون کرے گا؟ بیٹا اپنے چیف جسٹس کو میرا یہ پیغام بھی پہنچادو کہ اگر آپ نے کچھ کرنا ہے تو انصاف کو آسان، مضبوط اور اتنا منصفانہ بنادو کہ سارے لوگ اس پر بلا خوف اور بلا شک و شبہ اعتماد کریں۔ اگر ایسا کردیا تو میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ ملک کے سارے ادارے ٹھیک ہو جائیں گے۔ میرے اس چھوٹے سے علاقے میں لوگوں کا بابا رحمتے پر یقین ہی ان کی آزادی اور شفافیت کی وجہ ہے جبکہ اتنے بہت پیسے لینے والے،اتنے بڑے عہدے پر فائز ایک قاضی کو ہسپتالوں کے دورے اور نلکوں کے پانی چیک کرنے سے میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انصاف کا نظام بہت کمزور اور قاضی اپنے عہدے سے وفا نہیں کررہا۔ اسکی خبریں سن کی یہی گمان ہوتا ہے کہ وہ انصاف کم کرتا ہے،دکھاتا زیادہ ہے، لکھتا کم اور بولتا زیادہ ہے۔ وہ جس عہدے پر فائز ہے وہاں دھیان کم اور خبروں میں آنے پر زیادہ ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ ان سے قبل بھی ایک ایسا ہی قاضی گزرا ہے جس نے اسی طرح کام کئے، لوگ ان پر بہت جانثار ہوتے تھے پھر جب وہ ریٹائر ہوا تو اسی خوش فہمی میں ایک سیاسی پارٹی بنالی اور اب ان جانثاری کے دعویدار اسکے ٹانگے کی سواریاں بھی پوری نہیں کررہے۔ میں خاموشی سے بیٹھا اسکی باتیں سن رہا تھا، اتنی دیر میں دیکھا کہ ہر گھر سے ایک ٹرے بر آمد ہورہی ہے۔ بابے نے اٹھ کر زمین پر چادر ڈالی، تمام10/15 حاضرین بھی ہاتھ بٹانے لگے، تمام ٹرے سجا دیئے گئے۔ بابا بولا بیٹا، ہمارے ہاں مہمان آجائے تو سب گاؤں والے تواضح میں حصہ ڈالتے ہیں، آؤ کھانا کھاتے ہیں، سب نیچے بیٹھ گئے، ہر شخص کی خواہش تھی کہ اس کے گھر سے آنے والے کھانے کا نوالہ لوں۔ محبت اور مہمان نوازی کی اس خوبصورت مثال پر سوچ رہا تھا کہ ہم شہروں میں رہنے والوں کو ان خوبصورت لمحات کا کیا علم۔ ہم اپنی گاڑیوں اور گھروں میں کمپیوٹر، موبائل اور ٹی وی کے اسیر لوگ، ہمیں کیا پتہ تھا محبت کیا ہوتی ہے، مہمان نوازی کیا چیز ہے، رشتے ناطے کیا چیز ہیں، ہمیں صرف پیسے سے غرض ہے، نام و نمود سے غرض ہے، اپنی ذات تک محدود ہم انسانوں کی شکل میں مشینیں ہیں جو چابی سے چلتے ہیں، تھوڑا سا خراب ہوں تو کباڑ ہو جاتے ہیں اور پھر نظروں سے اوجھل ہو کر ہمیشہ کیلئے غائب ہو جاتے ہیں۔
کھانا کھاتے کھاتے اچانک بابا رحمتے نے سر اٹھایا اور مجھ سے پوچھا کہ بیٹا سنا ہے کہ آپ کے چیف جسٹس صاحب نے ایک وزیر اعظم کو جعلسازی پر نا اھل کر دیا اور ایک دوسرے کی جعلسازی کو قانونی قرار دے دیا؟ میں نے جواب دیا کہ بابا جی ہمارے وزیر اعظم پر ایک لیڈر نے کرپشن کا الزام لگایا، عدالت نے کیس سنا اور کرپشن کا کیس کرپشن کی عدالت میں بھیج دیا، جو کہ اب چل رہا ہے۔ اس دوران عدلت نے وزیر اعظم کو اپنے بیٹے کی بیرون ملک کمپنی سے تنخواہ مقرر ہونے کے باوجود نہ لینے اور اسکو ظاہر نہ کرنے پر جعلسازی قرار دے کر نا اھل کردیا۔ جبکہ جس لیڈر کا آپ ذکر کررہے ہیں اس نے خود درخواست دی کہ جس علاقے میں وہ رہتا ہے وہاں ایک ڈیم ہے، اس کے ارد گرد جنگل ہے وہاں لوگ بے دریغ عمارات بنا رہے ہیں جس سے اس علاقے کی خوبصورتی متاثر ہورہی ہے۔ موصوف خود بھی اسی علاقے پر ایک پہاڑی پر واقع ایک خوبصورت اور عالیشان محل میں رہتے ہیں، جو تین سو کنال پر محیط ہے۔ عدالت نے فوراً درخواست پر ایکشن لیا اور تعمیرات پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام غیر قانونی تعمیرات کو گرا دیا جائیگا۔ عوام خصوصاً اس علاقے کے مکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،اسی دوران عدالت نے موصوف سے پوچھ لیا کہ آپ نے جو گھر بنایا ہے اس کی کوئی اجازت وغیرہ آپ کے پاس ہے؟ موصوف نے فوراً ایک جعلی اجازت نامہ جمع کرادیا جس پر اس اجازت نامے پر دستخط والے صاحب کا بیان سامنے آگیا کہ یہ خط جھوٹا ہے، جعلی ہے، جس زمانے کا یہ خط ہے اس زمانے میں ان کے دفتر میں کمپیوٹر تک نہیں تھا۔ہمارے فاضل چیف جسٹس نے اس کو نظر انداز کرکے موصوف پر جرمانہ عائد کرکے تمام تعمیرات کو جائز قرار دے دیا۔
بابا رحمتے زور سے بولا! ہائے وے انصافا۔ پھر تھوڑی دیر بعد خاموشی کے بعد دوبارہ سوال کیا کہ میں نے سنا ہے کہ جس وزیر اعظم کو نا اہل کیا ہے اسکے مقدمے میں شعرو شاعری بھی کی گئی ہے۔
میں نے کہا! جی بابا جی۔ ناول نگاری، شعرو شاعری اور ڈان اور مافیا کے الفاظ لکھے گئے ہیں۔ جس پر بابا زور زور سے سرہلانے لگ گیا۔سنو بیٹا جج کا کام فتوے دینا اور کسی کو چور ڈاکو قرار دینا نہیں ہوتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ فریادی کی داد رسی ہو جائے اور فریادی مطمئن ہو جائے۔ مجھے معلوم نہیں کہ جس شخص کو نا اہل کیا گیا ہے اور جس کے بارے میں ایسے الفاظ ادا کرکے اسکی عزت نفس کو مجروح کیا گیا ہے، اسکا کیا حال ہوگا۔ میں نے جواب یا، بابا جی، وہ گلی گلی اور قریہ قریہ سوال کررہا ہے کہ ”مجھے کیوں نکالا“۔ بابا جی ہنسے اور گویا ہوئے کہ اس کا جواب ہے کہ آپ نے اپنے منصب کے تقاضے انصاف کے ساتھ ادا نہیں کئے تو منصف نے بھی ان تقاضوں کی پرواہ نہیں کی۔حاکم کو سب سے پہلے اپنے منصب، اپنے عہدے اور اپنے مقام کو مقدم رکھ کر انصاف اور احتمال کے ساتھ حکومت کرنی ہوتی ہے۔جب حاکم کے دربار میں انصاف نہ ہو، تو انصاف بھی بے انصاف ہوتا ہے مگر جو بے انصافی آپ بتا رہے ہیں وہ تو بے انصافی سے بھی ذیادہ ہے۔ بیٹا دنیا کے ہر کام میں کھوٹ، ملاوٹ، بد عنوانی، اقربا پروری ہو سکتی ہے مگر انصاف میں نہیں۔ اسلئے کہ انصاف اگر زمین پر نہ کیا جائے تو آسمانوں پر ہو جاتا ہے۔ جو زمین پر انصاف نہیں کرتا، جو انصاف کی مسند پر بیٹھ کر بے انصافی کرتا ہے وہ زمین اور آسمان دونوں جگہ پر معتوب ہوتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ انصاف کرنے والے کا بول بالا اور نہ کرنے والے کا منہ کالا ہوتا ہے۔ اللہ نے اگر ہمیں یہ عزت اور شان دی ہے کہ ہم انصاف کی مسند پر بیٹھ کر کسی کی داد رسی کر سکیں تو یہ اللہ کا ہمارے اوپر خاص کرم ہے ورنہ میں کیا اور میری اوقات کیا۔
تھوڑی دیر وقفہ کرکے بابا جی نے ایک دو نوالے منہ میں ڈالے اور سامنے بیٹھے شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ برکتے آج تے تیری ووہٹی نے بڑی لذیذ ہانڈی بنڑائی اے۔(آج تو آپ کی بیگم نے بہت لذیذ کھانا بنایا ہے)۔ تو برکتے نے جواب دیا، بڑیاں مدتاں بعدپنڈ وچ کوئی پروڑاں جو آیا اے (بہت عرصہ بعد گاؤں میں کوئی مہمان جو آیا ہے)۔ کھانا ختم ہوا، ایک بچہ ہاتھ میں پانی کا لوٹا اور کندھے پر تولیہ رکھے قریب آیا، پہلے میرے ہاتھ دھلوائے،تولیہ سے صاف کرکے سب کے ہاتھ دھلوائے۔ہم واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو بابا ایک بار پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا، یہ بتائیں کہ ملک میں انصاف کا محکمہ پورے انصاف کے ساتھ کام کررہا ہے؟ میں نے جواباً کہا، کہ نہیں بابا جی، 23 سال بعد ایک شخص کو بری کیا گیا جب اسکی رہائی متعلقہ جیل گئی تو معلوم ہوا کہ وہ شخص دو سال قبل جیل میں وفات پا چکا ہے۔ ابھی کچھ ہی روز قبل ایک عورت اسماء بی بی جس پر قتل کا الزام تھا، 19 سال بعد بری ہوئی، وہ جب گھر پہنچی تو جس طرح وہ رو رہی تھی، پوری قوم رو رہی تھی،نہیں رویا تو بس انصاف نہیں رویا۔ بابا جی کی آنکھیں بھر آئیں اور بولے کہ اس کے ذمہ دار وں کو کوئی سزا یا کوئی باز پرس یا اس عورت کو کوئی معاوضہ بارے کوئی فیصلہ ہوا؟ میں نے نفی میں سر ہلایا، تو بابا رنجیدہ ہوگئے اور کہنے لگے کہ تعجب ہے ایسے انصاف پر۔ آپ کی باتیں سن کر تو میرا خون کھول رہا ہے، یہ کیسا انصاف ہے، یہ کیسی عدالتیں ہیں، یہ کیسے جج ہیں جو اپنی نا انصافی کو ناول نگاری اور شعرو شاعری کا لبادہ پہنا کر خود کو ارسطو ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مگر انصاف نہیں پہنچا رہے۔ اگر میں وہاں پر ہوتا تو میں ان تمام لوگوں کی تنخواہوں کے پیسے وصول کرکے اس عورت اور اس شخص کو جو جیل میں وفات پا گیا، کے خاندان کو معاوضہ کا حکم دیتا تاکہ آئندہ کوئی کوتاہی نہ کرے اور کسی کی کوتاہی سے کسی کی زندگی کے برسہا برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ گزریں۔ پھر اچانک یہ سوال داغ دیا، کہ ان تمام نا انصافیوں کے باوجود چیف جسٹس صاحب ہسپتال اور سڑکیں ٹھیک کرارہے ہیں۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا، تو بولے کہ اپنے چیف جسٹس صاحب کو میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ آپ اپنے محکمہ کی سمت درست کریں، لوگوں کو صرف اسی وقت ڈر ہوتا ہے جب انکو معلوم ہو کہ انصاف کرنے والے بے دریغ انصاف کرتے ہیں اور انصاف کی فراہمی میں کوئی دیر نہیں کرتے۔ جب انصاف خود آئی سی یو میں ہو اور جج صاحبان تقریریں کریں تو وہ جج نہیں سیاسی جج ہوتے ہیں اور سیاسی جج کی زندگی اسکی مدت ملازمت تک ہی ہوتی ہے، اسکے بعد تاریخ کے کٹہرے میں باقی عمر گزارتا ہے اور اسکی باقی ساری زندگی کسمپرسی کے ساتھ گزرتی ہے۔ میں پڑھا لکھا تو نہیں، مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ منصف کا درجہ بہت بلند ہوتا ہے اور منصف انصاف نہیں کرتا تو وہ اللہ کی عدالت میں مجرم بن کر کھڑا ہو سکتا ہے۔ اسلئے منصف کو منصف ہی رہنا چاہئے۔ نظام انصاف کو اتنا مضبوط اور مربوط کردے کہ انصاف کی دھاک ہی کافی ہو۔ اگر صحت صفائی اور دوسرے اداروں اور افراد میں بد عنوانی ہے تو اسکی تمام تر ذمہ داری عدلیہ پر ہے کیونکہ کمزور نظام ان کا محافظ ہے اور وہ اس سے آگاہ ہیں۔ اگر قوم کو ایک بار یہ یقین ہو جائے کہ انصاف غیر جانبدار اور منصفانہ ہے تو پھر کوئی غلطی نہیں کرے گا۔
تھوڑی دیر وقفہ کیا، پانی کا گلاس پیا اور پھر مجھ سے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ کوئی اس بے انصافی کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ ویسے تو قانونی حلقوں میں آجکل سخت اضطراب پایا جاتا ہے، خاص کر عدالتوں کے ایک مخصوص گروہ کے ساتھ انتقام کی حد تک کا رویہ اور دوسرے گروہ کے ساتھ نہایت شفقت۔ اب تو ایک لطیفہ زیر گردش ہے کہ نشئی افراد نمازیں پڑھ پڑھ کر دعائیں کررہے ہیں کہ عدالتوں کا لاڈلا نشے میں پکڑا جائے تاکہ عدالتیں نشہ کو بھی جائز قرار دے دیں۔ دوسرا گروہ یہ کہہ رہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد فاضل چیف جسٹس صاحب کو اس پارٹی کا ترجمان مقرر کیا جانا چاہئے، اسکے علاوہ دو ضلعی جج صاحبان سے ان کے خلاف ریفرنس بھیجا ہے کہ فاضل چیف جسٹس صاحب کے خلاف جوڈیشل کونسل میں کاروائی کی جائے کیونکہ وہ منصف اعلیٰ کے عہدے کے تقاضوں سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں۔ باباجی ایک دم زور سے اچھلے، اوہ! تو پھر کیا ہوا؟ میں نے جواب دیا، دونوں معزز جج صاحبان کو معطل کرکے عہدوں سے ہتا دیا گیا۔
باباجی گہری سوچ میں پڑ گئے، پھر سر اٹھا کر بولے، جب منصف پر انگلی اٹھ جائے اور منصف انگلی کاٹ دینے کا حکم دے تو وہ کسی بھی طور منصف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ منصف کو چاہئے تھا کہ ان کو بلاتا اور ان سے پوچھتا کہ کیوں اور کیا اعتراض ہے۔ اگر اسکے اپنے ماتحت اس کی کارکردگی اور اہلیت پر سوال اٹھا رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر وہ قاضی القضاء کے مرتبے پر نہیں، صرف ایک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہے۔ وہ اگر قاضی القضاء ہوتا تو اپنے منصب سے اترجاتا اور اپنے خلاف خود انکوائری کراتا کہ میرے اپنے ماتحت میری کارکردگی سے مطمئن نہیں تو پھر دوسرے کیا ہوں گے۔ اگر حضرت عمر فاروقؓ کے عہدمیں ان سے چادر کا سوال کرنے والے جب یہ مثال پیش کرتے ہیں تو وہ کسی قاضی کے کردار کا بھی تو حوالہ دیں کہ کونسا قاضی سڑکیں، ہسپتال، اسکول اورادارے چیک کرتا تھا۔ سب کو پتہ تھا کہ قاضی سیاست نہیں کرے گا، لحاظ نہیں کرے گا لمبا عرصہ لٹکائے گا نہیں، کوئی اقربا پروری نہیں ہوگی، صرف اور صرف انصاف ہوگا۔اس خوف سے ہی تمام لوگ، تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے اور حکمرانوں کو بھی یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ کوئی غیر قانونی کام کریں کیونکہ انصاف زندہ تھا اور بے دریغ تھا۔ جب انصاف خود بے انصافی کرے گا تو پھر وہ انصاف نہیں رہے گا اور جب انصاف نہیں ہوگا تو پھر وہی کچھ ہوگا جو آپ بتا رہے ہیں۔ میں نے اسی لئے شروع میں ہی آپ سے کہہ دیا تھا کہ آپ چیف جسٹس صاحب سے کہہ دیں کہ وہ بھی کچھ ایسا کام کریں کہ میں بھی اپنی پنچایت، اپنے لوگوں میں انکی تعریف کروں۔ انصاف کے ساتھ انصاف کرنے والوں کو صرف یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ رسول پور کا بابا رحمتے جو صبح اٹھ کر کھیتی باڑی کرتا ہے اور دوپہر کو پنچایت۔ اسکی مثال تو ایک چیف جسٹس دیتا ہے اور ایک چیف جسٹس کی مثال ایک بوڑھا ان پڑھ بابا رحمتا نہیں دے سکتا۔ سمجھنے کیلئے یہی کافی ہے۔
بابا جی! کیا کبھی کسی نے آپ کے کسی فیصلے پر کوئی اعتراض کوئی تنقید کی ہے؟ ناں بیٹا ناں۔ اگر کبھی کوئی ایسا موقع آیا تو اس پنچایت میں میرا وہ آخری دن ہوگا۔ مجھے جب چودھری کے بیٹے کے خلاف آواز اٹھانے پر اس منچ پر بٹھایا گیا تو میرے والد نے مجھے ایک تصویر دکھائی جسمیں ایک بت کی آنکھوں پر کالی پٹی اور ہاتھ میں ترازو تھا۔ میرے والد نے کہا کہ میرے پتر،جب انصاف کرو تو آنکھوں پر پٹی باندھ کر بت کی طرح ترازو کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھنا، جب تک ترازو کا توازن برقرار رکھو گے تو دنیا میں بھی با عزت رہو گے اور اللہ کے حضور بھی سرخرو ہوگے۔ بیٹا میں نے اللہ کے حضور سرخرو ہو نے کو اپنی ترجیح بنایا، دنیا میں اللہ نے خود ہی عزت دے دی۔
مجھ سے قبل چودھری کی بڑی ٹور تھی، وہ جو چاہتا تھا وہی فیصلہ ہوتا تھا بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ لکھتا وہ تھا اور یہاں بیٹھنے والا سناتا تھا، مگر جب میں نے آواز اٹھائی تو سب سے پہلے گلے لگانے والا بھی چودھری تھا۔ چودھری اس وقت تک ہی چودھری ہوتا ہے جب تک ضمیر فروش طبقہ اپنے مفادات یا کمزوری کے باعث اس کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت نہیں کرتا۔جب چودھری کو علم ہو جائے کہ انصاف کی کرسی پر کوئی ذاتی مفاد کا اسیر نہیں، تو بس وہ فوراً اپنی پگ نیویں کر دیتا ہے۔
بیٹا ہم گاؤں والوں کے خاندانی تنازعات بہت ہوتے ہیں۔خاندانوں اور قبیلوں کے درمیان سالہا سال یہ تنازعات چلتے رہتے ہیں۔ دوکوس دور گاؤں والوں کے ساتھ ہمارے قبیلے کے بھی تنازعات تھے، ہمارا آپس میں کوئی رابطہ واسطہ نہیں تھا، انکا کوئی گھریلو تنازعہ ہوگیا، وہ اپنا مسئلہ لے کر میرے پاس آگئے، انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ سے انصاف کی توقع ہے اسلئے ہم آپ کے پاس آئے ہیں۔ ہم نے ان کو عزت دی اور ان کے درمیان تصفیہ کرا دیا۔ اس سے بڑی اللہ کی رحمت کیا ہوگی کہ دشمن بھی آپ پر اعتماد کریں۔ اسلئے میں پورے ایمان اور یقین سے کہتا ہوں کہ یہ جو میرے گاؤں والے بیٹھے ہیں ان میں سے بھی کوئی انگلی اٹھادے، کوئی میرے فیصلے کو غیر منصفانہ کہہ دے تو میں آپ کے چیف جسٹس کی طرح انگلی نہیں کاٹوں گا، عزت سے گھر چلا جاؤں گا۔ بیٹا میں ان پڑھ بندہ ہوں، نہ میں ناول لکھتا ہوں نہ شعر پڑھتا ہوں، نہ کلمے پڑھتا ہوں، نہ قسمیں کھاتا ہوں، بس خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنی سوچ سمجھ کے مطابق آنکھوں پر پٹی اور ترازو کا توازن برقرار رکھ کر فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جاتے ہیں۔پھر اچانک بابے نے مجھ سے سوال کیا کہ بیٹا آپ تو وکیل ہیں ناں؟ میں نے اثبات میں سر ہلادیا، تو بابے نے کہا کہ بیٹا آپ جب کیس کرتے ہو اور فیصلہ انصاف کا ہو تو کیا کبھی آپ نے دل آزاری محسوس کی ہے؟ میں نے کہا!کہ بابا جی، فائل آتے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ مقدمہ کی حقیقت کیا ہے لیکن چونکہ ہر شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے،اسلئے اپنے پیشے کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر فریق کی نمائندگی ضرور کرتے ہیں،مگر کبھی بھی منصفانہ فیصلے سے دل آزاری نہیں ہوئی،مگر یہ خوشی بہت کم نصیب ہوتی ہے۔ اب تو ہمارے سب سے بڑے جج کو بھی قسمیں کھا کھا کر اپنے آپ کو سچا ثابت کرنا پڑتا ہے۔ بابا جی فوراً بولے، جب جج قسم کھائے تو سمجھ لو کہ وہ اس منصب کا اہل نہیں رہا۔
میں نے کہا کہ بابا جی، آپ کی تعریف کرنے والے میرے چیف جسٹس کیلئے کوئی پیغام، قوم کیلئے کوئی پیغام دیں گے۔
بابا جی نے کہا کہ بیٹا، آپ نے جب شروع میں آکر کہا تھا کہ چیف جسٹس صاحب نے وکیلوں کے پروگرام میں میرا تذکرہ کیا، تو میں نے کہا تھا کہ اپنے چیف جسٹس صاحب سے کہنا کہ وہ بھی کوئی ایسا کام کر جائیں کہ میں بھی اپنی پنچایت میں ان کی تعریف کر سکوں، مگر اب جب میں نے پوری بات سنی تو میرا ان کو یہ پیغام دیں کہ جب ماتحتوں نے انکی ذات پر اعتراض کیا ہے تو وہ اس منصب سے علیحدہ ہو کر سیاست شروع کردیں۔ ابھی ان کو پھر بھی کوئی پذیرائی مل جائے گی، ورنہ میری یہ بات لکھ لیں کہ نوکری کے اختتام پر یہ انہی لوگوں کے ہاتھوں توہین آمیز سلوک کا شکار ہوں گے جن کی جعلسازیوں کو یہ قانونی قرار دے رہے ہیں اور قوم کیلئے میرا یہ پیغام ہے کہ اتفاق سے رہو، مفادات کے اسیروں کی جانثاری چھوڑ کر اس ملک کی اساس کو مضبوط کرو۔ تقسیم کرنے والوں، نفرتیں پھیلانے والوں، بدکردار اور بد عنوانوں کی بجائے اپنی صفوں سے اچھے اور نیک لوگوں کو تلاش کریں تاکہ معاشرہ تقسیم نہ ہو، ورنہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔
بابا رحمتے نے مجھ سے سوال کیا کہ کچھ مولویوں نے اسلام آباد کا محاصرہ کیا تھا اور چیف جسٹس سمیت سب کو غلیظ گالیاں سے رہا تھا، اس کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی؟ میں نے کہا! نہیں بابا جی۔ ہمارے چیف جسٹس صاحب بندہ دیکھ کر کاروائی کرتے ہیں۔ اس مولوی کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں کو ایک حاضر سروس جنرل ہزار، ہزار کے نوٹ تقسیم کررہا تھا، وہاں کون کاروائی کر سکتا ہے۔ بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج صاحب نے کچھ بولنے کی جرأت کی تو اسکو نوٹس بھیج دیا گیا۔ ہمارے ہاں انصاف صرف نہال ہاشمی جیسے غریب کارکنوں کے خلاف ہوتا ہے، وہ ایک معزز وکیل ہے، اس نے گستاخی کی، اسکو سزا دی،وہ جیل میں ہسپتال میں داخل ہوا تو اس پر جج صاحب نے برہمی کا اظہار کیا جبکہ کئی سو معصوم لوگوں کا قاتل اپنی مرضی کے ساتھ عدالت آیا، اسکو وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا اور قتل کے ملزم کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، وہاں انصاف خاموش ہے۔
بابا رحمتے نے پھر سر ہلایا اور کہنے لگا یہ تو صریحاً انصاف کا قتل ہے، یہ تو انصاف کے ساتھ بے انصافی کی انتہاء ہے۔ اسی لئے تو ہمارا ملک آگے نہیں جارہا کیونکہ جہاں انصاف نہ ہو وہاں کبھی ترقی نہیں ہو سکتی۔
میں نے رخصت چاہنے سے قبل بابا رحمتے سے کہا کہ میں آپکی ایک تصویر لینا چاہتا ہوں تاکہ القانون میں چھاپ سکوں، تو بابا رحمتے نہ کہا کہ، بیٹا جو اللہ کے عطا کردہ اس عظیم منصب پر بیٹھ کر کام کررہے ہوں وہ تصویریں نہیں اپنی یادیں اور اپنے فیصلے نقش کراتے ہیں۔ میں کوئی تنخواہ دار ملازم نہیں ہوں، مجھے مراعات نہیں، میرے لئے پولیس سڑکیں بند کرکے زبر دستی میری عزت نہیں بناتی، میں ایک عام ان پڑھ محنت کش دیہاتی ہوں، میں اگر گاؤں سے باہر گیا تو مجھے اپنی کار کردگی اور اپنے اللہ پر اتنا بھروسہ ہے کہ اتنی عزت پولیس کی گاڑیوں کے پیچھے چلنے والی لمبی چوڑی گاڑیوں میں بیٹھے ان جج صاحبان کی نہیں ہوگی جتنی میری ہوگی۔اور بیٹا اگر آپ کے چیف جسٹس صاحب شہر لاہور میں میری تعریف کرتے ہیں اور آپ اتنی دور سے چل کر میرے پاس آئے ہو، تو یہ وہ مقام ہے جو اللہ نے مجھے نوازا ہے اور یہ مقام کسی تصویر کسی تقریر، کسی ناول اور کسی شاعری کی بدولت نہیں بلکہ انصاف کے ترازو کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر مضبوطی سے تھامنے تاکہ توازن خراب نہ ہو کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ کاش اللہ کے نائب کے منصب پر بیٹھنے والے لوگ اس ترازو کی اہمیت سمجھیں، اسکے مقام کو سمجھیں اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ بیٹا یہ جو اخباروں میں رسالوں میں فوٹو چھپتے ہیں، یہ یا تو سیاسی لوگ ہوتے ہیں اور یا اداکار۔ اگر اخبار میں ایک قاضی اور اداکارہ کا فوٹو ساتھ ساتھ چھپ جائے تو بتاؤ کیا فرق رہے گا۔
میں خاموشی سے اُٹھا، بابے سے اجازت چاہی، بابا نے گرمجوشی سے رخصت کیا اور ایک شخص کو آواز دی، نورے! صاحب نوں اسٹاپ تک چھوڑ آ۔ میں نورے کے ساتھ پگڈنڈیاں عبور کرتے ہوئے سڑک کی طرف رواں دواں بابے کی باتوں کو سوچ رہا تھا کہ بابے کی جو تعریف سنی تھی بابا اس سے بھی ذیادہ پہنچی ہوئی ہستی ہے۔ بابے کی مثالیں دینے والے تھوڑا سا بھی بابا بن جائیں تو انصاف کی عزت و تکریم کہاں سے کہاں پہنچ جائے گی۔ انہی خیالات میں گم جارہا تھا کہ اچانک قریب سے ایک کتا بھونکا، میں خیالات میں گم ہونے کی وجہ سے ایک دم اچھل پڑا اور میری آنکھ کھل گئی، صبح کاذب کا وقت تھا، میں نے وضو کیا فجر پڑھی اور پھر قلم کاغذ سنبھال کر خواب قلمبند کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں