F.I.R مظلوم کا بنیادی حق

F.I.R مظلوم کا بنیادی حق


ویسے تو جرم کا آغاز کائنات پر تب ہوا، جب قابیل نے ہابیل کا قتل کیا۔ جیسے جیسے بنی نوع انسان ترقی اور خوشحالی کی منزلیں طے کرتا گیا، توں توں جرائم میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ انہی جرائم کے خاتمے اور تدراک کیلئے مختلف قوانین معرض وجود میں آئے۔ عام طور پر قوانین کا مقصد عام لوگوں کو جرائم سے دور کرنا ہوتا ہے۔ جیسے ہی لفظ جرم کا کہیں ذکر ہو تو ایک عام آدمی کے ذہن میں فوراً سے پہلے پولیس کا خیال آتا ہے اور لوگوں میں پولیس کے بارے میں کوئی قابل ستائش رائے نہیں پائی جاتی۔ ہمارے ملک پاکستان میں انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پولیس کے رویے کو جانا جاتا ہے۔بدقسمتی سے پولیس کو خوف اور دہشت کی علامت گردانا جاتا ہے۔ اکثرو بیشتر اگر کہیں کوئی وقوعہ ہو جائے تو پولیس مدعی کی ایف آئی آر رجسٹر نہیں کرتی۔مقفنہ نے پولیس کی ناقص کارکردگی کو جانچتے ہوئے FIR درج کروانے کا اختیار ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22A(6) کے تحت جسٹس آف پیس کو بھی دیا ہے جو کہ عام طور پر ایڈیشنل سیشن جج یا سیشن جج ہوتا ہے۔

اگر مدعی متعلقہ ایس ایچ او کو وقوعہ کی بابت FIR درج کروانے کیلئے درخواست دیتا ہے اور متعلقہ ایس ایچ او مدعی کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کرتا ہے یا اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں دکھاتا تو مدعی اس مقدمہ درج کروانے کی درخواست متعلقہ ڈی پی او اور آر پی او کو دینے کے بعد پٹیشن برائے اندراج مقدمہ سیشن کورٹ میں دائر کر سکتا ہے اور جسٹس آف پیس اس پٹیشن پر پولیس کی رپورٹ طلب کرکے یا بغیر پولیس رپورٹ طلب کئے FIR کے اندراج کا حکم دے سکتا ہے۔
جسٹس آف پیس یعنی سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو یہ اختیار2002 میں دیا گیا۔ اس سے پہلے یہ اختیار صرف ہائی کورٹ کو حاصل تھا۔

PLD 2008 صفحہ نمبر 53 پر پشاور ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا کہ جسٹس آف پیس کو اندراج مقدمہ کے حکم دینے کا مقصد عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر سستا اور مؤثر انصاف دلانا تھا۔

PLD 2007 صفحہ نمبر 539، PLD 2018 صفحہ نمبر17 اور اسی طرح PCrLJ 2016 صفحہ نمبر172 پر اعلیٰ عدلیہ نے اپنے عدالتی نظائر میں جسٹس آف پیس پر زور دیا ہے کہ اگر مدعی کی درخواست برائے اندراج مقدمہ کے مطابق ایک قابل دست اندازی پولیس جرم بنتا ہے تو اس درخواست کی سچائی کو جانچے بغیر متعلقہ ایس ایچ او کو مقدمہ کے اندراج کا حکم دے۔
PLD 2005 صفحہ نمبر470 پر عدالت عالیہ نے تفصیل کے ساتھ جسٹس آف پیس کے اختیارات پر روشنی ڈالی۔

PLD 2016 صفحہ نمبر581 جوکہ فل بنچ کا فیصلہ اور اس بنچ میں انور ظہیر جمالی، ثاقب نثار، اعجاز افضل خان، مشیر عالم اور منظور ملک شامل تھے۔ اس Landmark Judgment میں عدالت عظمیٰ نے جسٹس آف پیس کے حکم کے تحت ہونے والی Proceeding کو Quasi Judicial قرار دیا ہے۔ منظور ملک صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ میں زور دیا کہ مدعی کو اندراج مقدمہ کی پٹیشن جسٹس آف پیس کے پاس دائر کرنے سے پہلے DPO اورRPO کو درخواستیں دینا لازمی ہیں، تاکہ عدالت کے اوپر Cases کا Burden کم سے کم آسکے۔ نیز جسٹس آف پیس کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں Writ Petition دائر کی جا سکتی ہے۔

مختصر یہ کہ حکومت کو چاہئے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اور لوگوں کو سستا انصاف فراہم کرنے کیلئے تھانہ کلچر میں بہتری لائے نیز جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے کو بھی سخت سزا دی جائے تاکہ ایک مظلوم آدمی کو تھانہ کلچر کی ذلالت سے بچایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں